ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

جنوری کی طرح پٹرول کی شدید قلت کا خطرہ

datetime 3  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آئل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) جو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کا ایک نمائندہ ادارہ ہے، اس نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے، اس لیے کہ مایع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات کے تناظر میں بندرگاہ پر رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں۔یہ تنبیہ اس سال جنوری میں خیبرپختونخوا اور پنجاب سمیت ملک کے اہم حصوں میں پٹرول کے شدید بحران کی ایک یاددہانی ہے۔او سی اے سی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ برتھ میں کھڑے آئل لانے والے جہازوں کو آپریشن کے طریقہ کار کے تازہ ترین معیار کے ساتھ ترجیح دے اور اگر وہ دوسرےبحران سے بچنا چاہتی ہے تو بندرگاہ پر بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرگرمیاں شروع کرے۔ایڈوائزری کونسل نے پورٹ قاسم اتھارٹی کی جانب سے پیش کیے گئے خدشات کی حمایت کی ہے جو چند روز قبل پورٹ کی برتھ پر کھڑے جہازوں کی تاخیر کے سلسلے میں تھی، اور واضح کیا ہے کہ ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی درآمد کا ایک اہم آپریشن بغیر کسی مناسب تیاری کے شروع کردیا گیا۔
اہم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فوجی آئل ٹرمینل کمپنی (فوٹکو) کے چیف آپریٹنگ آفیسر حسن سبکتگین کے ساتھ ایک اجلاس کے بعد او سی اے سی نے اپنے خدشات پیش کیے۔ اس اجلاس میں اہم آپریشنل مسائل پر تبادلہخیال کیا گیا۔او سی اے سی نے وفاقی حکومت کو تحریر کیا ہے کہ ”پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹینکرز کی ہینڈلنگ سے منسلک ایسے عوامل کی ایک بڑی تعداد ہے، جس کا فوٹکو اور پی او ایل تک آئل ٹینکر کی نقل و حمل کی منصوبہ بندی، شیڈیولنگ پر شدید اثر پڑسکتا ہے۔تقریباً 35 کروڑ ٹن ایل این جی سالانہ یا دو کروڑ نوّے لاکھ ٹن ماہانہ لائی جائے گی۔ بین الاقوامی سیفٹی کی ضروریات کے پیش نظر یہ ممکن تھا کہ تقریباً چالیس ہزار سے پینتالیس ہزار ٹن کے چھوٹے سائز کے کارگو لایا جاتا، بجائے 80 ہزار ٹن کی استعداد کے۔ تاہم اس کے نتیجے میں ایل این جی لانے والے جہازوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ایک مہینے میں سات ہوگی۔
انٹرنیشنل گیس ٹینکرز اینڈ ٹرمینل آپریٹرز سوسائٹی کی سیفٹی سے متعلق بین الاقوامی ضروریات کے تحت لازم ہے کہ ایل این جی کے جہاز اور دیگر جہازوں کے درمیان اس وقت ایک کلومیٹر تک کا فاصلہ رکھا جائے، جب وہ بیک وقت پورٹ میں داخل ہورہے ہوں۔بلند لہروں کے عرصے کے دوران پورٹ پر اوسطاً تین جہاز داخل ہوتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق اگر پی او ایل کے جہازوں کو پورٹ میں داخلے اور نکلنے میں ترجیح نہ دی گئی تو برتھنگ یا پورٹ کی موجودہ تاخیر آٹھ سے دس دنوں کی ہوسکتی ہے۔او سی اے سی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر الیاس فاضل نے کہا کہ اس تاخیر کا اثر جہازوں کی واپسی کے اوقات پر پڑے گا، اور پی او ایل کی مصنوعات کی تقسیم کی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ اگر اس سے نمٹا نہ گیا تو ملک کے بالائی علاقوں میں پٹرول مصنوعات کی قلت کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…