اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

سینٹ کی 48سیٹوں پر مقابلہ،127امیدوار میدان میں

datetime 2  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایم کیو ایم اور پی پی کے 4 سینیٹرز کے بلامقابلہ انتخاب کے بعد 48 نشستوں پر مقابلہ ہوناباقی ہے۔ 5 مارچ کو 127 امیدوار ان نشستوں پر قسمت آزمائیں گے۔ پنجاب سے تمام 11نشستیں ن لیگ کی حصے میں آسکتی ہیں۔ اسلام آباد کی جنرل اور خواتین کی ایک ایک نشست پر 4-4 امیدوار مدمقابل ہیں۔ ان نشستوں پر مسلم لیگ ن ،ایم کیو ایم کے 3-3 ، پیپلز پارٹی کے2 امیدوار میدان میں ہیں۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو عددی بالا تری حاصل ہے کہ جنرل اور خواتین کی نشست پر حکمراں جماعت کا امیدوار کامیابی حاصل کر لے گا۔ سینیٹ میں فاٹا کی 4 جنرل نشستوں پر 36 امیدوارمیدان میں ہیں جن میں 35 امیدوار آزاد حیثیت میں ، ثناءاللہ خان واحد امیدوار ہیں جو مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔صوبہ پنجاب کی 11 نشستوں کیلئے مجموعی طور پر 16 امیدوار میدان میں ہیں۔7 جنرل پر 10 ، خواتین کی 2 نشستوں پر 3 جبکہ ٹیکنوکریٹس اورعلما کی 2 نشستوں پر 3 امیدوار میدان میں ہیں ان نشستوں پر کامیابی کیلئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے ہیں پی پی نے جنرل کے 2 جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کیلئے 1-1 امیدوار میدان میں اتارا ہے۔ اسلام آباد کی طرح صوبہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ ن واضح اکثریت حاصل ہے جس کی وجہ غالب امکان یہ ہے کہ صوبہ 7 جنرل خواتین کی 2 اور ٹیکنوکریٹس کی 2 نشستوں پر مسلم لیگ ن میدان مار لے گی۔ صوبہ سندھ میں 11 نشستوں میں سے خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی 2-2 نشستوں پر پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کے امیدوار بلا مقابلہ کامیابی حاصل کر چکے ہیں جبکہ7 جنرل نشستوں پر 8 امیدوار میدان میں ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے 5 ،متحدہ قومی موومنٹ کے 2 جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کا امیدوار کامیابی کیلئے میدان میں ہیں صوبہ سندھ میں 7 جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی 5 جبکہ ایم کیو ایم 2 نشستوں پر کامیابی متوقع ہے۔ سندھ سے پی پی پی 7 اور متحدہ قومی موومنٹ 4 نشستیں حاصل کر لیگی۔خیبر پختونخوا 12 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کیلئے 27 امیدوار میدان میں ہیں۔ صوبہ سے پاکستان تحریک انصاف،پاکستان مسلم لیگ ن، قومی وطن پارٹی، جے یو آئی ف ،عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اور آزاد امیدوار قسمت اآزمانے میدان میں اترے ہیں۔7 جنرل نشستوں پر 12 ، خواتین کی 2 نشستوں پر 6 اسی طرح ٹیکنوکریٹس/ علماء کی 2 نشستوں پر بھی 6 امیدوار جبکہ اقلیت کی 1 نشست کیلئے 3 امیدوار میدان میں ہیں۔پی ٹی آئی کو صوبائی اسمبلی میں عددی برتری حاصل ہونے کے سبب قومی امکان ہے یہ جماعت 5 نشستوں پر یقینی کامیابی حاصل کر لیگی جبکہ جماعت اسلامی،قومی وطن پارٹی مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف بھی نشستوں پر کامیابی حاصل کر لیگی۔بلوچستان صوبے میں 5 مارچ کو 12 نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائیگا، جس میں 7 جنرل ،خواتین کی 2،علماء/ ٹیکنوکریٹس کی 2 اور اقلیت کی 1 نشست پر مجموعی طور پر 32 امیدوار میدان میں ہیں ان میں ن لیگ،نیشنل پارٹی،پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جے یو آئی ف ،بلوچستان نیشنل پارٹی اور آزاد امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔7 جنرل نشستوں کیلئے 14 امیدواروں ،خواتین کی2 نشستوں کیلئے 6 امیدوار،ٹیکنوکریٹس/علما کی 2 نشستوں پر7 جبکہ اقلیت کی ایک نشست کیلئے 5 امیدوارقسمت آزمائیں گے۔



کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…