اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

اکیسویں ترمیم کیخلاف درخواستیں قابل سماعت نہیں ، حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب جمع

datetime 23  فروری‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے اکیسویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کر دی ، کہتے ہیں بار کونسلز کا کوئی بنیادی حق متاثر نہیں ہوا ، اکیسویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستیں ناقابل سماعت ہیں ، خارج کی جائیں۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے اکیسویں ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے ۔ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔ عدالتوں نے بھی اپنے فیصلوں میں کبھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کیا۔ دنیا کے دستور میں بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا کوئی تصور نہیں ملتا ، اگر کسی ملک کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے بھی تو اس کا باقاعدہ ذکر کیا گیا ہے۔ بھارتی عدلیہ کے فیصلوں کے حوالوں پر اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے آئین میں بہت زیادہ فرق ہے، بھارتی عدالتوں کے فیصلوں کا پاکستان میں من و عن اطلاق نہیں ہو سکتا۔ ایسا کرنا ہمارے آئین کی روح کے منافی ہوگا۔ اکیسویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کیخلاف درخواست پر سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…