میں المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے ساتھ ساتھ لاہور کے ایسے ادارے کو بھی جانتا ہوں جو 43 سال سے ذہنی مریض بچوں کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ کنگ ایڈروڈ میڈیکل کالج لاہور کی شعبہ اطفال کی دماغی امراض کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر خالدہ ترین نے 43 سال قبل جوہر ٹائون لاہور میں بنایا تھا‘ ادارے میں آج150 بچے ایک گروپ میں اور 700 بچے دوسرے گروپ میں جنرل تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تربیت اور ہنر حاصل کر رہے ہیں‘ سٹاف میں 25سے زائد سائیکالوجسٹ شامل ہیں جب کہ بچوں کی تربیت میں آرٹ اینڈ کرافٹ ٹریننگ‘ کھادی‘ کپڑا بننا‘ بلاک ٹریننگ‘ ووڈ کرافٹ‘ وال ہینگینگز‘ کارپینٹری کی عملی تربیت بھی شامل ہے۔
اس سنٹر میں حیدر علی نے 1998ء میں شمولیت اختیار کی‘ دماغی عارضے کے ساتھ اس نے بچپن میں اپنا دایاں بازو بھی بجلی کے شاک لگ جانے سے کھو دیا تھا لیکن اتنی معذوریوں کے باوجود بھی یہ آج بلاک ٹریننگ کا شان دار کاری گر بن چکا ہے‘ بلال نے 2004ء میں ادارے میں شمولیت اختیار کی اور ایک عمدہ پیراک بننے کے بعد اس نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سپیشل اولمپک جو 2007ء میں شنگھائی (چین) میں ہوا میں تین گولڈ میڈل جیتے‘ آج وہ لاہور کے ایک نمایاں ادارے میں پیراکی کے کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے‘ یہ پاکستان کی سپیشل اولمپک ٹیم میں فٹ بال بھی کھیلتا ہے۔سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے’’ جو لوگ اللہ کو قرض حسنہ دیتے ہیں اللہ ان کے قرضے کو کئی گناہ کر کے لوٹاتے ہیں‘‘۔ اسی اصول کی بنیاد پر پاکستانی معاشرے کے خوش حال طبقے سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ حسب استطاعت اس ادارے کی بھی عملی معاونت کریں اور رمضان کے بابرکت مہینے میں اور آنے والی عید کی خوشیوں میں اور اس کے بعد بھی ان زیرتربیت بچوں کو یاد رکھیں۔
آپ اپنی امداد درج ذیل اکائونٹس کے ذریعے بھجوا سکتے ہیں۔





















































