بہت بہت مبارک ہو

23  ‬‮نومبر‬‮  2023

(نوٹ:یہ کالم میں نے 9 جنوری 2018ء کو تحریر کیا تھا‘اس میں خاور مانیکا صاحب اور بشریٰ بی بی کی بیک گرائونڈ تھی اور اس وقت بشریٰ بی بی کی عمران خان سے تازہ تازہ شادی ہوئی تھی جس پر اس وقت ایک بحران پیداہوا تھا‘ اب یہ بحران چھ سال بعد دوبارہ پیدا ہوا ہے کیوں کہ خاورمانیکا صاحب نے چند دن پہلے ایک ٹیلی ویژن چینل پر انٹرویو دیااور اس میں انہوں نے کچھ نئے حقائق بیان کیے‘ میرا خیال یہ ہے کہ خاور مانیکا صاحب اب 90 فیصد غلط بیانی کر رہے ہیں جب کہ ماضی میں ان کے خیالات مختلف تھے اور یہ جو کالم لکھا گیا تھا اس کی زیادہ تر معلومات میں نے اس دور میں خاور مانیکا صاحب سے لی تھیں توآپ یہ کالم دوبارہ پڑھیںکیوں کہ اس کا تاریخ کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے)۔

خاور فرید مانیکا کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسر ہیں‘ یہ پاک پتن کی مانیکا فیملی سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ لوگ بابا فرید گنج شکرؒ کے مرید ہیں‘ خاور فرید کے والد غلام محمد مانیکا سیاستدان تھے‘ یہ بے نظیر بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے‘ یہ 2011ء کے آخر میں انتقال کر گئے‘ خاور فرید کے بھائی احمد رضا مانیکا نے 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر این اے 165 سے الیکشن لڑا‘ خاور فرید اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ یہ ایچی سن کے طالب علم بھی رہے اور یہ امریکا میں بھی پڑھتے رہے‘ یہ امریکا میں ’’سپورٹس کار ٹائپ‘‘ رئیس طالب علم تھے‘ یہ پاکستان واپس آئے‘ 1983ء میں سی ایس ایس کیا اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ جوائن کر لیا‘ یہ اس وقت گریڈ 21 کے آفیسر ہیں‘ ان کی شادی اوکاڑہ کے وٹو خاندان میں ہوئی‘ بشریٰ ریاض دیپالپور کے گائوں کوئیکی سے تعلق رکھتی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں پانچ بچوں سے نوازہ‘ تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں‘ دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے اور یہ بچوں کی مائیں ہیں‘ ایک بیٹی پنجاب کے وزیر عطا مانیکا کی بہو ہے اور بیٹے ابراہیم مانیکا اور موسیٰ مانیکا فارن کوالی فائیڈ ہیں۔

خاور فریدمانیکا کی شخصیت دو حصوں میں تقسیم ہے‘ یہ کسٹم آفیسر ہیں اور یہ صوفی منش ہیں‘ کسٹم آفیسر کی حیثیت سے ان کا ماضی اچھا نہیں تھا‘ یہ لاہور‘ سیالکوٹ‘ ملتان‘ کراچی اور اسلام آباد میں تعینات رہے لیکن غلط شہرت کی وجہ سے زیادہ عرصہ اہم پوزیشنوں پر نہیں ٹک سکے‘ یہ جہاں بھی رہے جونیئر عملے نے ان پر کرپشن کا الزام لگایا‘ یہ کولیکشن اور سپیڈ منی سے نہ صرف اپنا حصہ وصول کرتے تھے بلکہ یہ اپنے حصے سے زیادہ بھی لے جاتے تھے‘ یہ گفٹ وصول کرنے میں بھی بدنام تھے‘ یہ ملتان میں تھے تو ریحان نام کا ایک کلیئرینس ایجنٹ ملاقات کے لیے آیا‘ اس نے کلائی پر رولیکس گھڑی باندھ رکھی تھی‘ انہیں گھڑی پسند آ گئی‘ وہ بے چارہ گفٹ دینے پر مجبور ہو گیا‘ یہ واقعہ پورے ڈیپارٹمنٹ میں مشہور ہوا اور اس کے بعد کا ہر ملاقاتی اپنی اپنی قیمتی اشیاء گاڑی میں رکھ کر ان کے دفتر جاتا تھا‘ یہ بعد ازاں ڈی جی ٹرانزٹ ٹریڈ بنے‘

یہ ان کے کیریئر کی شاندار ترین پوسٹ تھی لیکن یہ شکایات کی وجہ سے ہٹا بھی دیئے گئے اور 2015ء کے پروموشن بورڈ میں ان کی پروموشن بھی نہ ہو سکی‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم پر تمام افسروں کو پروموٹ کر دیا یوں یہ 21ویں گریڈ میں پہنچ گئے لیکن یہ ماضی کی باتیں ہیں‘ یہ بتدریج ٹھیک ہوتے چلے گئے‘ یہ آج کل اچھی اور صاف ستھری شہرت کے حامل ہیں۔خاور فرید مانیکا کی شخصیت کا دوسرا پہلو روحانیت ہے‘ یہ طویل عرصے سے تسبیحات کر رہے ہیں‘ یہ پاک پتن کے دیوان کے رشتے دار بھی ہیں اور یہ جوانی سے صوفی ازم اور روحانیت کی طرف بھی مائل ہیں‘

ان کی بیگم بشریٰ مانیکا شروع میں ماڈرن خاتون تھیں لیکن یہ بھی روحانیت کی طرف متوجہ ہوگئیں‘ یہ وظائف کرنے لگیں اور یہ آہستہ آہستہ پنکی پیرنی کے نام سے مشہور ہو گئیں‘ یہ دونوں میاں بیوی ہر سال 5 محرم کو پیدل لاہور سے حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے مزار پر پاک پتن جاتے تھے‘ عمران خان کی ان لوگوں سے 2015ء میںعون چودھری کے ذریعے ملاقات ہوئی ‘عمران خان اس مختصر سی ملاقات میں پنکی سے متاثر ہو گئے‘ یہ اس کے بعددونوں میاں بیوی سے اکثر ملاقاتیں کرنے لگے‘ بشریٰ بی بی نے اس دوران عمران خان کو وظائف بھی دیے اور برکت کے لیے انگوٹھی بھی ‘ یہ انہیں جلسوں‘ تقریروں اور بیانات کے لیے ’’سعد گھڑی‘‘ بھی بتاتی تھیں۔

عمران خان کی آمد کے بعد میاں بیوی کے درمیان دوری پیدا ہونے لگی‘ خاور فرید مانیکا اس دوری کو روحانی اور قدرت کا اشارہ قرار دیتے ہیں‘ جولائی 2016ء میں یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں عمران خان نے بشریٰ بی بی کی بہن مریم مانیکا کے ساتھ تیسری شادی کر لی ہے تاہم مانیکا فیملی اور پی ٹی آئی نے ان خبروں کی تردید کر دی‘ عمران خان بشریٰ بی بی کی روحانیت کے کتنے قائل ہیں آپ اس کی مثال عائشہ گلا لئی کے واقعے سے لگا لیجیے‘عائشہ گلا لئی نے عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا‘ عمران خان الزام کے فوراً بعد بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا‘ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ’’آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے‘‘ ۔ عمران خان کا خیال تھا حکومت یہ ایشو اچھالے گی‘ کیس بنے گا اور حکومت انہیں صادق اور امین نہیں رہنے دے گی لیکن پیرنی کی بات درست اور خان صاحب کا خدشہ غلط ثابت ہوا‘

یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا‘ یہ روحانی سلسلہ چلتا رہا لیکن اس دوران میاں بیوی کے تعلقات خراب سے خراب ہوتے چلے لگے یہاں تک کہ بیوی نے خاوند سے طلاق مانگ لی‘ طلاق کے سلسلے میں دو اطلاعات ہیں‘ پہلی اطلاع‘ بشریٰ مانیکا نے خاور فرید کو بتایا‘ مجھے نبی اکرمؐ کی زیارت ہوئی‘ آپؐ نے مجھے حکم دیا تم خاوند سے طلاق لے کر عمران خان کے ساتھ شادی کر لو‘ شادی کے بعد عمران خان کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی‘ یہ وزیراعظم بن جائیں گے اور پاکستان کا سنہرا دور شروع ہو جائے گا اورخاوند نے پاکستان کے سنہرے دور کے لیے اپنی 30 سالہ رفاقت توڑ دی یوں بیگم بشریٰ مانیکا دوبارہ بشریٰ ریاض وٹو بن گئیں‘ یہ لاہور شفٹ ہوئیں اور والدہ کے ساتھ رہنے لگیں اور عمران خان نے انہیں رشتہ بھجوا دیا۔ دوسری اطلاع‘ بشریٰ مانیکا نے خاور فرید سے خلع لی اور عمران خان کے ساتھ نکاح کر لیا‘ خاور فرید اور پی ٹی آئی کا موقف ہے شادی ابھی نہیں ہوئی‘

خاور فرید مانیکا یہ بھی فرما رہے ہیں ہماری طلاق کی وجہ ناچاقی نہیںتھی کوئی روحانی ایشو تھا‘ ہم اس اعتراف کو خواب یا بشارت کی تصدیق سمجھ سکتے ہیں‘ یہ دونوں اطلاعات کہاں تک درست ہیں یا ان میں سے کون سی ٹھیک اور کون سی غلط ہے یہ فیصلہ وقت کرے گا تاہم یہ درست ہے عمران خان بشریٰ ریاض سے ٹھیک ٹھاک متاثر ہیں‘ یہ ان کے روحانی اثر میں بھی ہیں‘ مجھے عمران خان کے خاندان کے ایک فرد نے بتایا بشریٰ بی بی نے روحانی حساب لگا کر بتایا عمران خان کا لاہور کا آبائی گھر 2زمان پارک ان کے لیے ٹھیک نہیں‘ زمان پارک میں عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ نیازی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھیں‘ عمران خان نے پیرنی کے مشورے پر اپنا آبائی گھر گرا دیا‘

ان کی ہمشیرہ اب کرائے کے مکان میں رہتی ہیں‘ یہ حفیظ اللہ نیازی کی بیگم ہیں‘ ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہے‘ 2زمان پارک اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے‘ یہ اطلاعات بھی ہیں ‘ بشریٰ بی بی اور خاور فرید کا خیال تھا ریحام خان عمران خان کے سیاسی راستے میں رکاوٹ ہیں چناںچہ خان صاحب نے پیرنی کے اشارے پر یہ رکاوٹ ہٹا دی‘ یہ دونوں میاں بیوی عمران خان کے لیے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے‘ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کے لیے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی‘ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

یہ رشتہ بہت ضروری ہے‘ کیوں؟ اس کی چار بڑی وجوہات ہیں‘ عمران خان روحانیت پسند لیڈر ہیں‘ یہ پوری زندگی اپنا روحانی مرشد تلاش کرتے رہے‘ بشریٰ بی بی سے شادی کے بعد ان کی یہ روحانی تلاش ختم ہو جائے گی‘ یہ باقی زندگی روحانی اطمینان کے ساتھ گزار سکیں گے‘ شادی کی خبروں نے عمران خان‘ بشریٰ بی بی اور خاوند فرید مانیکا کی زندگی ڈسٹرب کر دی‘ یہ تینوں کردار بدقسمتی سے میڈیا کا موضوع بن گئے‘ یہ زیادتی ہے‘ عمران خان کو واقعی ایک دین دار‘ وفادار اور مخلص ساتھی کی ضرورت ہے‘ یہ چالیس برس سے ہیرو کی زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ ملک کے واحد 66 سالہ سیاستدان ہیں جن کی شادی آج بھی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے‘

ہمارے ہیرو کو اب اپنی کشتیاں کسی ساحل پر لنگر انداز کر دینی چاہییں تاکہ یہ وزیراعظم بننے کے بعد اطمینان سے حکومت کر سکیں اور مانیکا فیملی پچاس سال سے سیاست اور ساڑھے سات سو سال سے روحانیت کے شعبے میں ہے‘ عمران خان کے پیر خاور فرید مانیکا جولائی 2018ء میں ریٹائر ہو جائیں گے‘ یہ ریٹائرمنٹ کے بعد روحانیت اور سیاست دونوں شعبوں میں عمران خان کی معاونت کر سکیں گے یوں پاکستان کا حقیقتاً سنہری دور شروع ہو جائے گا‘ ملک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گاچناںچہ یہ شادی ملک کے روشن مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی ضروری ہے‘میری طرف سے تمام فریقین کو بہت بہت مبارک ہو‘ پاکستان زندہ باد‘ روحانیت پائندہ باد۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…