یہ بھی پاکستان ہے

  جمعرات‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2022  |  10:30

یہ تین لوگوں کی تین کہانیاں ہیں‘ میں جب ان تینوں لوگوں سے متعارف ہوا‘ میں نے ان کی داستانیں سنی تو میرا پہلا تاثر تھا کیا یہ بھی پاکستانی ہیں؟ اور اگر یہ پاکستانی ہیں تو پھر ہم کون ہیں؟ آپ کو اس سوال کے جواب سے پہلے یہ تین کہانیاں پڑھنی چاہییں۔ پہلی کہانی کے ہیرو خالد جاوید ہیں‘یہ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں‘ ان کی عمر 68 سال ہے‘یہ برطانیہ میں جاب کرتے رہے‘

ان کے دوبیٹے اور ایک بیٹی ہے‘ ایک بیٹا ڈاکٹر ہے‘ دوسرا کینیڈا میں جاب کررہا ہے جب کہ بیٹی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے‘یہ درد دل رکھنے والے انسان ہیں‘یہ بھی پاکستان کے حالات سے کڑھتے رہتے تھے‘ آئے دن کے واقعات ان کے دل کو بھی زخمی کرتے تھے‘ انہوں نے اس تکلیف دہ صورت حال سے نکلنے کے لیے ایک دل چسپ اور حیرت انگیز حل تلاش کیا‘ انہوں نے پاکستان کے نام پر ‘ اس کی مٹی کے نام پر اور اپنے خاندان کے نام پر صدقہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ ان کا خیا ل ہے ہمیں پاکستان کے حالات پر کڑھنے کی بجائے ملک میں تعلیم کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے‘ یہ ریڈ فائونڈیشن سے متعارف ہوئے اور یہ2001ء سے 2022ئتک ریڈ فائونڈیشن کے ذریعے 22تعلیمی ادارے بنا چکے ہیں‘ یہ سال میں دو بار ان تعلیمی اداروں کا وزٹ کرتے ہیں‘اپنے اداروں کے غریب اور یتیم بچوں سے ملتے ہیں ‘یہ بچے اوران سکولوں کا سٹاف ان کے لیے انرجی کا ذریعہ ہیں‘ دو سال قبل ان کی بیگم کو کینسر ہو گیا لیکن اس صدقے کی برکت اور بچوں کی دعائوں نے ان کو شفا یا ب کر دیا‘خالد جاوید نے اپنے تینوں بچوں ‘بیگم ‘ بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر یہ تعلیمی ادارے بنائے ہیںاور یہ ادارے ان کے لیے اور پاکستان کے لیے صدقہ جاریہ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
دوسری کہانی خاورمحمود صاحب کی ہے‘ خاورمحمود صاحب سیالکوٹ کے رہائشی ہیں‘انہوں نے پاکستان میں کاروبار کیا‘ ناکام ہوئے ‘ کاروبا ر ڈوب گیا اور یہ سعودیہ اور پھر دوبئی شفٹ ہوگئے‘

معمولی نوکریاں کیں‘ فاقے کاٹے ‘ کھلے آسمان تلے راتیں گزاریں اور پھر اللہ نے ان پر اپنا فضل کیا اور ان کا کاروبار چل پڑا‘ یہ اب تین کمپنیوں کے مالک ہیں ‘یہ بھی پاکستان کے حوالے سے بہت فکر رکھنے والے انسان ہیں ‘ انہوں نے بھی خالد جاوید کی طرح بچوں کی تعلیم کے ذریعے پاکستان اور اس مٹی کا قرض ادا کرنے کافیصلہ کیا‘یہ میرے ایک کالم کے ذریعے ریڈفائونڈیشن سے متعارف ہوئے ‘ پاکستان آئے ‘فائونڈیشن کے ہیڈ آفس اور تعلیمی اداروں کا وزٹ کیا اور248 یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لے لی‘یہ سال میں ایک بار پاکستان آتے ہیں ‘ان بچوں سے ملتے ہیں ‘ان کے لیے کھلونے اور کھانے کا انتظام کرتے ہیںاورحقیقی خوشی کا ایک احساس دل میں لے کر نئے جذبے سے واپس لوٹ جاتے ہیں‘خاور محمود سے اب جو بھی سوال کرتا ہے آپ کے کتنے بچے ہیں تو یہ جواب دیتے ہیں 248۔

تیسری کہانی ایک 27 سالہ نوجوان محمد یٰسین کی ہے‘ یہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہے‘اس کی عمر جب 6 سال تھی تو اس کے والد کا انتقال ہو گیا‘والدہ نے اپنے بچوں کو انتہائی مشقت سے پالا‘ محمد یٰسین والدہ کی مشقت دیکھتا تو اس کا دل بیٹھ جاتا لیکن اس نے عزم کیااور اپنے گاؤں کی زمین بیچ کر کراچی میں کاروبار شروع کر دیا‘یہ ابھی تک کرائے کے گھر میں رہتا ہے اور اس کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں تاہم اس نے ایک اصول طے کر رکھا ہے‘ یہ اپنے منافع کے تین حصے کرتا ہے‘ ایک حصے سے گھر چلاتا ہے‘

ایک حصہ واپس کاروبار میں لگاتا ہے اور ایک حصے سے یتیم بچوں کو تعلیم دیتا ہے‘یہ بھی میرے کالم کے ذریعے فاؤنڈیشن سے جڑا اور یہ اب تک ریڈ فاؤنڈیشن کے 40یتیم بچوںکوسپانسرکر چکا ہے‘یہ ہرماہ اپنی آمدنی سے ایک لاکھ روپے فاؤنڈیشن کو ارسال کر دیتا ہے‘فاؤنڈیشن اس کو بچوں کی تفصیل‘ تصاویر اور رزلٹ دیتی ہے اوریہ جوانی کی عمر میں پاکستان کے لیے صدقہ کر رہا ہے اور میں اس کی جوانی پر صدقے واری ہوتا رہتا ہوں‘پاکستان میں صدقہ کرنے والے ایسے لوگ سالانہ 240 ارب روپے صدقہ کرتے ہیںاور آپ کے لیے یہ حیرانی کی بات ہوگی یہ رقم انڈیا سے دگنی ہے یعنی انڈیا کے سوا ارب لوگ پاکستان کے 23کروڑ لوگوں کی نسبت آدھی ڈونیشن دیتے ہیں اور یہ ہمارے کل جی ڈی پی کا ایک فیصد ہے‘

صدقہ کی رقم کے حساب سے پاکستان دنیا کے چار بڑے ممالک میں شامل ہے‘خالد جاوید‘خاورمحمود اور محمد یٰسین جیسے سینکڑوں پاکستانی اس مٹی کا قرض چکا رہے ہیں‘ اس کے لیے صدقہ کر رہے ہیں اور اس صدقے نے تمام تر خراب حالات کے باوجود پاکستان کو قائم رکھا ہوا ہے‘آپ یقین کریں جس دن ان لوگوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اس دن پاکستان کا قائم رہنا مشکل ہو جائے گا‘کیوں؟ کیوں کہ ہم نے اس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لہٰذا یہ لوگ اس مٹی کا نمک ہیں‘ ملک میں رنگ و بو کا ذائقہ ان ہی کی بدولت ہے‘

ہماری بہاریں اور خوشیاں ان ہی کی وجہ سے ہیںچناں چہ آپ بھی ان کی صفوں میں شامل ہو کرپاکستان کے لیے صدقہ کر سکتے ہیں‘ریڈفائونڈیشن تعلیم کے میدان میں کمال کررہی ہے‘ یہ کرائے کی عمارتوں میں تعلیمی ادارے قائم کرتی ہے‘ غریب اور یتیم بچوں کو مفت تعلیم دیتی ہے اور مخیر حضرات کے تعاون سے عمارتوں کی تعمیر اور یتیم بچوں کی کفالت کا کام کرتی ہے‘ فائونڈیشن کے چارسو سے زائد سکولز میں سوالاکھ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ‘13ہزار یتیم بچے ان اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور 20ہزار یتیم بچے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

آپ ریڈ فاؤنڈیشن کے یتیم بچوں کے پراجیکٹ میںاپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں توصرف 30 ہزار روپے سالانہ سے ایک یتیم بچہ اپنے نام کر سکتے ہیںاگر اللہ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تو آپ ایک سے زیادہ بچوں کی کفالت کا ذمہ بھی لے سکتے ہیں اور اگر گنجائش کم ہے تو 2500روپے ماہانہ سے ایک بچے یا بچی کی کفالت کا ذمہ لے لیں اور دیکھیں اللہ آپ کی جان اور مال میں کیسے برکت ڈالتا ہے؟

یہ رقم آپ اپنی زکوٰۃ سے بھی اد اکر سکتے ہیں ۔ فائونڈیشن کے کام کی مکمل تفصیل اور دیگر پراجیکٹس کے لیے نیچے دیے گے نمبرزاور بذریعہ ای میل یا واٹس ایپ رابطہ کر سکتے ہیں۔ فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹ نمبر اور رابطے کی تفصیلات نیچے درج ہیں۔آپ نیچے دئیے گئے اکائونٹ نمبر زمیں رقم جمع کروا کر دئیے گئے فون نمبرز پر تفصیل بھیج دیں۔ فائونڈیشن کا نمائندہ آپ کو یتیم بچوں کی مکمل تفصیل اور آپ کی طرف سے جمع کردہ رقم کی رسید ارسال کرے گا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

اب تو آنکھیں کھول لیں

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎