کلاسیکل مثال

  منگل‬‮ 9 مارچ‬‮ 2021  |  0:01

مجھے چند دن قبل ایک دوست نے خوف ناک واقعہ سنایا‘ ان کی گلی میں ایک خاندان رہتا ہے‘ خاوند ملک سے باہر محنت مزدوری کرتا ہے‘ بیٹا شادی شدہ ہے لیکن بے روزگار ہے‘ ایک پوتا اور پوتی بھی ہے‘ خاتون بوڑھی اور بیمار تھی‘ وہ برسوں سے شوگر کی مریض تھی لیکن ادویات اور خوراک میں بدپرہیزی کرتی رہتی تھی‘ شوگر بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ ایک رات باتھ روم گئی‘ سلپ ہوئی‘ فرش پر گری اور اس کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

بیٹا اور بہو اوپر کی منزل پر سوئے رہے اور ماں ساری رات باتھ روم میں فرش پر بے ہوش پڑی رہی‘ صبح خاتون کو اٹھایا گیا‘ بیٹا اور بہو دونوں نالائق تھے‘ وہ انہیں ڈاکٹر تک لے کر

نہ جا سکے‘ خاتون دو دن ٹوٹے کولہے کے ساتھ کرسی پر بیٹھی رہی‘ اس دوران اس کی ٹانگیں سوجھ گئیں‘ تیسرے دن ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا‘ ڈاکٹر بھی نالائق تھا‘ اس نے ”پین کلرز“ دے کر گھر بھجوا دیا‘ چوتھے دن ٹانگوں میں گینگرین ہو گئی‘ خاتون کو محلے کے لوگ ہسپتال لے گئے‘ ٹانگوں میں زہر پھیلنا شروع ہو چکا تھا‘ ڈاکٹر نے پاﺅں کاٹنے کی بری خبر سنا دی‘ فیملی ڈر گئی‘ وہ انہیں اٹھا کر دوسرے ہسپتال لے گئی‘ ان کے پاس سرجن نہیں تھا‘ خاتون کو واپس گھر لے جایا گیا‘ ٹانگوں میں پیپ پڑنا شروع ہو گئی‘ محلے کے لوگ کسی نہ کسی طرح انہیں بڑے ڈاکٹر کے پاس لے گئے‘ ڈاکٹر نے انہیں اسلام آباد کا راستہ دکھا دیا‘ وہ لوگ مریضہ کو پمز لے آئے‘ ہسپتال میں کوئی ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا‘ وہ بے چارے تین چار دن کی خواری کے بعد خاتون کو اٹھا کر واپس گجرات لے گئے‘ اس دوران دونوں ٹانگیں گل گئیں اور ان میں کیڑے پڑ گئے‘ محلے کے لوگ خاتون کو پھر اٹھا کر عزیز بھٹی ہسپتال لے گئے‘ خاتون کو بمشکل ایمرجنسی میں داخل کیا گیا ‘ علاج ابھی شروع نہیں ہوا تھا ڈاکٹروں کے دو دھڑوں میں لڑائی ہو گئی‘ ہسپتال میں فائرنگ ہوئی اور ہسپتال بند کر دیا گیا‘ جی ہاں ضلع کا سب سے بڑا ہسپتال بند ہو گیا۔

تمام مریضوں کو ہسپتال سے نکال دیا گیا‘ خاتون کا سٹریچر بھی دھکیل کر کوریڈور میں رکھ دیا گیا‘ خاندان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی‘ یہ اب کیا کریں‘ بڑی منت سماجت کے بعد خاتون کو وہ رات ہسپتال میں گزارنے کی اجازت ملی لیکن ڈاکٹر اور طبی عملے کے بغیر‘ وہ لوگ ساری رات مختلف لوگوں کے دروازوں پر دستک دیتے رہے‘ صبح اللہ نے کرم کیا‘ ان لوگوں کو ایک مقامی رپورٹر مل گیا‘ وہ ان کے ساتھ ہسپتال گیا‘ ایم ایس کو تلاش کیا‘ وہ چھٹی پر تھے‘ ڈپٹی ایم ایس کی منت کی‘ اس نے بڑی مشکل سے سرجن کا بندوبست کیا۔

طبی عملہ ہڑتال پر تھا‘ رو دھو کر ایک آدھ بندہ وہ بھی مل گیا‘ مریضہ کو آپریشن تھیٹر لے جایا گیا‘ خاتون کی ٹانگیں اس وقت تک کولہے کی ہڈی تک گل چکی تھیں اور ان میں باقاعدہ کیڑے پڑ چکے تھے‘ مریضہ کی دونوں ٹانگیں کاٹ دی گئیں لیکن وہ آپریشن ٹیبل پر ہی انتقال کر گئیں‘ سرجن نے لواحقین کو مشورہ دیا آپ انہیں جلد سے جلد دفن کر دیں‘ ان کا جسم چند گھنٹوں میں بو چھوڑ دے گا‘ میت اس وقت تین حصوں میں تقسیم تھی‘ وہ لوگ تابوت کی تلاش میں نکلے تو پتا چلا ہسپتال میں یہ بندوبست نہیں‘ وہ بے چارے لوگ بڑی مشکل سے میت کو اٹھا کر قبرستان لائے اور جسم کے تین حصوں کو بڑی مشکل سے دفن کیا۔

یہ ملک میں اداروں کے فیلیئر کی ایک چھوٹی سی مثال ہے‘ آپ اگر کسی چھوٹے شہر میں رہتے ہیں اور آپ کسی حادثے کا شکار ہو گئے تو پھر آپ یقین کریں آپ ڈاکٹر‘ ہسپتال اور ادویات کو ترستے ترستے مر جائیں گے‘ آپ کو پورے شہر میں صحیح مشورہ دینے والا ایک بھی شخص نہیں ملے گا‘ آپ کو کسی ڈاکٹر کے پاس پھینک دیا جائے گا اور وہ ڈاکٹر اپنی فیس کھری کر کے آپ کو کسی دوسرے پرائیویٹ کلینک یا ہسپتال بھجوا دے گا اور اس دوران لواحقین کی جیبیں خالی اور مریض کی جان کی نقدی اجڑتی رہے گی۔

ہم شاید دنیا کا واحد ملک ہوں گے جس میں ہسپتالوں میں بھی فائرنگ ہو جاتی ہے اور طبی عملہ مریضوں کو ایمرجنسی اور آپریشن تھیٹروں میں چھوڑ کر ہڑتال پر چلا جاتا ہے اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی‘ ملک کی طبی سہولیات اور طبی عملے کی مہارت کا یہ عالم ہے پی ایس ایل کے کھلاڑی‘ وزراءاور چھوٹے بڑے بزنس مین ہمارے ڈاکٹروں سے کورونا کی ویکسین بھی نہیں لگواتے‘ہمارے ججزبھی خون پتلا کرنے والی ڈسپرین باہر سے منگواتے ہیں۔

حکومت کسی دن ملک میں طبی سہولیات کا سروے کرا لے حکومت کے سارے طوطے اڑ جائیں گے‘ ہمارے ملک میں میڈیکل ریسرچ کے سو سے زیادہ ادارے ہیں لیکن یہ دھیلے کا کام نہیں کرتے‘ پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کے ہزار سے زائد ملازمین تنخواہوں اور پنشن کے لیے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں اور حکومت کے پاس ان کی بات سننے کے لیے بھی وقت نہیں‘ آپ اس کے بعد تعلیم‘ زراعت‘ پینے کے صاف پانی‘ خوراک اور میونسپل سروسز کا جائزہ بھی لے لیں۔

آپ کو ملک کے دس بڑے شہروں کا کچرا سڑکوں اور نالوں میں نظر آئے گا‘ ہم زرعی ملک ہیں مگر ہم 70 فیصد دالیں اور گندم درآمد کرتے ہیں‘ ہم اپنی ضرورت کا کوکنگ آئل اور فروٹ بھی پیدا نہیںکر سکتے‘ ملک میں ایک بھی ایسا شہر نہیں جس کی ٹونٹی کا پانی پینے کے قابل ہو‘ ہماری زراعت کاٹن بیسڈ تھی‘ ہم اب کاٹن بھی امپورٹ کرتے ہیں‘ ہمارے تعلیمی ادارے صرف اسناد اور ڈگریاں دیتے ہیں‘ انجینئرز کو انجینئرنگ‘ ڈاکٹرز کو ڈاکٹری اور ایم بی اے کو بزنس کرنا نہیں آتا۔

استاد پڑھانا اور شاگرد پڑھنا نہیں جانتے‘ ہم بچپن سے سڑکیں اور گلیاں بنتے دیکھ رہے ہیں‘ یہ آج تک بن رہی ہیں‘ ہم بجلی کی تاریں اور کھمبے تک پورے نہیں کر سکے‘ پورا ملک بیمار ہے مگر آج تک کوئی جامع طبی پالیسی نہیں بن سکی‘ بجلی جب چاہتی ہے غائب ہو جاتی ہے اور یہ جب آتی ہے تو مین لائنیں اڑا دیتی ہے‘ پٹرول جمع کرنے والے ادارے وقت پر پٹرول نہیں خریدتے یوں ملک میں پٹرول کی قلت ہو جاتی ہے‘ حکومت وقت پر ایل این جی نہیں لیتی‘ سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہو جاتی ہے۔

چینی اپنی ہے لیکن حکومت کے کنٹرول میں نہیں‘ ڈالر کا ریٹ بھی مارکیٹ طے کرتی ہے‘ ریلوے میں روز کوئی نہ کوئی ٹرین پٹڑی سے اتر جاتی ہے‘ پی آئی اے ڈیڑھ سال سے بند پڑی ہے‘ ہماری سمندری حدود کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتی ہیں یہ ہمارے مچھیرے بھی نہیں جانتے چناں چہ یہ کبھی ایرانی کوسٹل گارڈز کے قابو آ جاتے ہیں اور کبھی انہیں بھارتی نیوی پکڑ کر لے جاتی ہے اور ہم آج تک ایران سے سمگل ہونے والا پٹرول بھی نہیں روک سکے جب کہ پیچھے رہ گئی پولیس اورعدلیہ تو ان دونوں کی صورت حال باقی تمام اداروں سے زیادہ بدتر ہے۔

حکومت کو اب ملک میں مناسب پولیس آئی جی اور چیف سیکرٹری بھی نہیں ملتا‘ جج انصاف کے لیے عدالتوں میں دھکے کھاتے ہیں اور وکلاءچیف جسٹس کے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ بھی کر دیتے ہیں ‘ چیف جسٹس کو اس کے منہ پر برا بھلا بھی کہہ دیتے ہیں اور حکومت چیف جسٹس کو بھی تحفظ نہیں دے پاتی‘ کیوں؟ آپ نے کبھی سوچا؟آپ یہ یاد رکھیں ملکوں کو بیورو کریسی چلاتی ہے اور بیوروکریسی کو حکومتیں لیکن جس ملک میں حکومتیں پانچ پانچ سال تک اپنا کچھا سنبھالتی رہیں اور بیوروکریسی نیب کے خوف سے کام نہ کرے اس ملک کی کیا حالت ہو گی؟۔

ہم شاید دنیا کا واحد ملک ہیں جس میں آپ اگر کچھ نہ کریں تو آپ نوکری پوری کر کے باعزت ریٹائر ہو جاتے ہیں لیکن آپ اگر کچھ کرنے کی غلطی کر بیٹھیں تو پھر احد چیمہ کی طرح آپ کی جان نہیں چھوٹتی‘ ہمارے ملک میں آج تک کسی نے کسی افسر کو کام نہ کرنے پر سزا نہیں دی لیکن کام کرنے والا ہر شخص کارکردگی کی سزا بھگت کر دنیا سے گیا‘کیوں؟ آخر کیوں! یہ صورت حال مزید کتنی دیر چلے گی؟ ہم نے 73 برس ضائع کر دیے‘ ہماری تین نسلیں استحکام کی خواہش میں قبروں میں پہنچ چکی ہیں۔

ہم مزید کتنی نسلوں کی قربانی دیں گے؟ آپ یہ یاد رکھیں حکومتیں جب تک اپنی نیکروں کی حفاظت سے باہر نہیں آتیں‘ یہ اس وقت تک بیوروکریسی سے کام نہیں لے سکتیں اور بیوروکریسی کو جب تک کارکردگی پر مبارک باد اور شاباش نہیں ملتی یہ بھی اس وقت تک ہاتھ نہیں ہلاتی‘ آپ دنیا کا کوئی ملک بتا دیں جس میں حکومت ایک ایک دن کر کے اپنی مدت پوری کرتی ہو‘ ادارے اداروں کے ساتھ لڑ رہے ہوں‘ بیوروکریسی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہو‘ جج اپنے لیے انصاف تلاش کر رہے ہوں‘ پولیس پولیس سے بچ رہی ہو۔

ریلوے کے ملازمین جہاز پر سفر کرتے ہوں‘ وزیرتعلیم کے بچے پرائیویٹ اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہوں‘ وزیر صحت اپنے لیے دوسرے ملکوں سے ادویات منگوا رہا ہو اور الیکشن کا عملہ دھند میں غائب ہو جاتا ہو اور اس ملک نے ترقی کر لی ہو؟ آپ کوئی ایک مثال دیں چناں چہ خدا کے لیے یہ کھیل بند کریں‘ حکومتوں کو آزاد کریں تاکہ یہ اطمینان کے ساتھ اپنا کام کر سکیں‘ اداروں پر توجہ دیں‘ افسروں کو کام پر شاباش دیں اور سستی پر ان کا احتساب کریں‘ ملک میں اگر جمہوریت ہے تو پھر جمہوریت نظر آنی چاہیے اور اگر آمریت ہے تو پھر یہ سامنے آئے۔” لُکا چھپی“ کا یہ کھیل ملک کو برباد کررہا ہے اور یہ ملک ناکامی کی کلاسیکل مثال بن رہا ہے‘ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں بچا‘ احساس کریں‘ اکٹھا بیٹھیں اور ملک کی فکر کریں۔


زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎