کراچی کے گٹر ہی کافی ہیں

  جمعرات‬‮ 3 ستمبر‬‮ 2020  |  0:01

آئس لینڈ دنیا کے ان 23 ملکوں میں شامل ہے جن میں فوج نہیں‘ میں 2018ءمیں آئس لینڈ گیا تھا‘ مجھے وہاں جا کر علم ہوا ملک میں بری‘ بحری اور فضائی فوج تو دور پولیس اہلکار بھی صرف دو سو ہیں اور یہ بھی جمعہ‘ ہفتہ اور اتوار تین دن چھٹی کرتے ہیں‘ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں تین دن پولیس سٹیشن بند رہتے ہیں‘ پورا ملک جزیرہ ہے اور یہ چاروں طرف سے کھلا ہے‘ اس پر سرحدی پولیس تک نہیں چناں چہ اگر کوئی شخص کسی بھی سائیڈ سے ملک میں داخل ہونا چاہے تو اسے رکاوٹ کا سامنا نہیں ہو گا۔

باقی 22 ملک بھی فوجوں کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں لیکن اب سوال یہ ہے ہم 58 اسلامی

ملکوں سے اگر کوئی ملک آئس لینڈ‘ مناکو‘ مارشل آئی لینڈز‘ مائیکرو نیسیا‘ پلاﺅ‘ اینڈورا‘ کوسٹاریکا یا گرینیڈا پر قبضہ کرنا چاہے تو کیا یہ ہو سکے گا؟ ہرگز نہیں‘ ہم ان ملکوں میں اپنی فوجیں تو اتار لیں گے لیکن ہم وہاں دو چار دنوں سے زیادہ قبضہ برقرار نہیں رکھ سکیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ملک عیسائی ہیں اور پوری عیسائی دنیا ہمیں دو تین دنوں میں پیک کر کے رکھ دے گی‘ یہ ہماری امداد‘ تجارت اور آمدورفت بھی بند کر دے گی‘ یہ ہماری فضائی‘ بری اور بحری سرحدوں پر بھی تالے لگا دے گی‘ یہ ہماری امپورٹس اور ایکسپورٹس بھی معطل کر دے گی اور نیٹو فوج کے ذریعے ہم پر حملہ بھی کر دے گی اور یوں ہم دیکھتے ہی دیکھتے عراق‘ افغانستان‘ شام اور لیبیا بن جائیں گے‘ ہم اپنے آپ سے اپنا پتا پوچھتے رہ جائیں گے‘ یہ ہوتی ہے طاقت اور یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے‘ طاقتور کے بارے میں کہتے ہیں اس کا کتا بندھا ہوا بھی ہو تو یہ محفوظ ہوتا ہے جب کہ کم زور کا ہاتھی بھی اس کی ڈیوڑھی نہیں بچا سکتا اور ہم مسلمان ملک اس وقت اپنی کم زوری کی اس انتہا کو چھو رہے ہیں چناں چہ افغانستان ہو‘ عراق ہو‘ لیبیا ہو یا پھر شام ہو یہ ہمارے سامنے تباہ کر دےے گئے اور ہم انہیں بچا نہیں سکے بلکہ سچ تو یہ ہے ہم نے خود نیٹو فورسز کے ساتھ مل کر اپنے مسلمان بھائیوں پر رمضان میں بمباری کی اور انہیں سجدے کے عالم میں شہید کیا۔

اگلی باری ایران‘ ترکی اور پھر پاکستان کی ہے‘ پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے لیکن ہمارے سمیت سب نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں‘ ہم سب جانتے ہیں عیسائی دنیا کسی ایسے مسلمان ملک کو معاف نہیں کرے گی جس کی فوج مضبوط ہے یا جو ایٹم بم کا مالک ہے‘ آپ عراق‘ لیبیا‘ مصر اور شام کو دیکھ لیں ان کا کیا جرم تھا؟ ان کا صرف ایک ہی جرم تھا اور وہ تھا مضبوط فوج چناں چہ یہ ملک عبرت کی نشانی بنا دیے گئے اور آج یہ اپنے زخم چاٹتے ہیں اور عالم اسلام کی طرف دیکھتے ہیں‘ ہم بھی کل یہ کر رہے ہوں گے کیوں کہ ہم بھی اسی انجام کی طرف سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔

میں نے اسرائیل‘ فلسطین اور عالم اسلام پر اپنے صحافتی کیریئر کے غیر مقبول ترین کالم لکھے‘ یہ سیدھے سادے ”آبیل مجھے مار“ کی خوف ناک کوشش تھے اور اس کوشش کا وہی نتیجہ نکلا جو نکلنا تھا‘میں اعتراف کرتا ہوں میں غلط ہو سکتا ہوں‘ میں روز اللہ سے یہ دعا بھی کرتا ہوں میں غلط ثابت ہو جاﺅں لیکن سوال یہ ہے کیا ہم اب بھی آنکھیں نہیں کھولیں گے‘ سعودی عرب نے1948 میں اسرائیلی جہازوں پر اپنی فضائی حدود سے گزرنے پر پابندی لگائی تھی۔

یہ پابندی 31 اگست کو اچانک اٹھا لی گئی اورتاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل کا کمرشل طیارہ سرکاری وفد کے ساتھ سعودی عرب کی فضا سے گزر کر یو اے ای پہنچا اور دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے‘ یہ کیا ہے؟ کیا عرب امریکا کے دباﺅ میں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کر رہے؟ کیا ٹرمپ کا جادو نہیں چل رہا؟ ذرا آنکھیں کھول کر سوچیں! میرے ”غیر مقبول ترین“ کالموں پر ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا اسرائیل خود کو پورے عالم تک وسیع کرنا چاہتا ہے اور ہم نے اگر اسے نہ روکا تو یہ پورے عالم اسلام کو نگل جائے گا۔

یہ اعتراض سو فیصد درست ہے‘ یہودی واقعی دجلہ سے لے کر نیل تک ہر اس خطہ ارض کو اپنا حق سمجھتے ہیں جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے قدم رکھا تھا یا جہاں کبھی یہودی آباد رہے تھے‘ یہ مکہ اور مدینہ منورہ کو بھی اپنی زمین کہتے ہیں اور یہ اس پر قبضہ بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا یہ توسیع پسندی صرف یہودیوں تک محدود ہے؟ کیا ہم پوری دنیا پر اسلام کا جھنڈا نہیں دیکھنا چاہتے‘ کیا ہندو‘ بودھ حتیٰ کہ آتش پرست بھی پوری دنیا پر غلبہ نہیں چاہتے؟ عیسائی تو عملاً اس وقت پوری دنیا پر قبضہ کر چکے ہیں۔

ڈالر‘ یورو اور پاﺅنڈز دنیا کی تینوں بڑی کرنسیاں عیسائی ہیں‘ اقوام متحدہ‘ ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف اور فیٹف کس کے ادارے ہیں؟ دنیا کی سو بڑی کارپوریشنز میں سے 67 عیسائی ہیں اور ان کے میجر شیئر ہولڈرز یہودی ہیں اور دنیا کی پانچ سو بڑی یونیورسٹیوں میں سے 97 فیصد عیسائی دنیا میں ہیں‘ آج دنیا کے کسی فائیو سٹار ہوٹل کو اس وقت تک پانچ ستارے نہیں مل سکتے جب تک یہ کرسمس کا اہتمام نہ کر لے لہٰذا یہ دنیا پر عملاً قبضہ کر چکے ہیں چناں چہ توسیع کے پلان دنیا کی ہر قوم اٹھا کر پھر رہی ہے لیکن کیا یہ پلان کام یاب بھی ہوں گے؟

یہ فیصلہ طاقت کرتی ہے‘ ہم اگر مضبوط ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گی‘ یہ سب مل کر بھی ہماری طرف آنکھ نہیں اٹھا سکیں گے اور اگر کم زور ہیں تو پھر ہوا بھی ہمیں اڑا دے گی‘ آپ اس سلسلے میں ایران‘ کویت اور کریمیا کی مثال لے سکتے ہیں‘ مغربی دنیا کا خیال ہے ایران کے پاس ایٹم بم موجود ہے چناں چہ امریکا چالیس سال کی خواہش کے باوجود آج تک اس پر حملہ نہیں کر سکا‘ عراق نے 1990ءمیں کویت پر قبضہ کر لیا تھا۔

کویت دنیا میں تیل پیدا کرنے والابڑا ملک ہے‘ امیر کویت نے خزانے کے دروازے کھول دیے اور امریکا بارہ ہزارکلو میٹر کا سفر طے کر کے کویت کی حفاظت کے لیے آگیا‘ روس نے 2014ءمیں یوکرائن کے شہر کریمیا پر قبضہ کر لیا‘ امریکا نے روس پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں‘ روس تگڑا ملک تھا ‘یہ پابندیوں کا رگڑا برداشت کر گیا اور کریمیا آج تک روس کے پاس ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ روس مضبوط ملک ہے چناں چہ آپ دیکھ لیں فیصلہ کون کر رہا ہے؟

طاقت کر رہی ہے لہٰذا ہم مسلمان اگر مضبوط ہوں گے تو اسرائیل ہمارے سارے دشمنوں کے ساتھ مل کر بھی ہماری داڑھی کا ایک بال نہیں کھینچ سکے گا اور ہم اگر آج کی طرح کم زور ہوئے تو پھر آئس لینڈ کے دو سو پولیس اہلکار بھی پورے عالم اسلام پر قبضہ کر لیں گے اور ہم انہیں گالی تک نہیں دے سکیں گے کیوں کہ ہماری ہر گالی کے ساتھ امریکا کا میزائل ہمارے سر پر آ گرے گا چناں چہ خدا کے لیے اپنے آپ کو مضبوط کریں‘ طاقتور بنیں‘ دنیا میں تو کم زور کا خدا بھی کم زور ہوتا ہے اور طاقت کے لیے صرف ایمان کافی نہیں ہوتا‘ اس کے لیے ایمان داری‘ علم‘ سسٹم‘ معیشت اور قوت بازو بھی چاہیے ہوتی ہے اور ہم ان سب میں کم زور ہیں۔

ہماری حالت یہ ہے ہم آب زم زم بھی یہودی ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں نکال سکتے‘ خانہ کعبہ میں ساﺅنڈ سسٹم ہو یا کولنگ پلانٹ یہ بھی عیسائیوں نے یہودی ٹیکنالوجی کے ذریعے لگایا ہے‘ یہودی بے شک ہمارے دشمن ہیں لیکن یہ ایک ارب 90کروڑ مسلمانوں کے سامنے کتنے ہیں‘ صرف ایک کروڑ 47لاکھ اور یہ ہماری آبادی کااعشاریہ سات فیصد بنتے ہیں لیکن یہ اعشاریہ سات فیصد لوگ پورے عالم اسلام کے لیے خطرہ ہیں‘ کیوں؟ صرف علم‘ ٹیکنالوجی اور معیشت کی وجہ سے‘ان کے پاس صرف یہ تین ہتھیار ہیں اور آج انہوں نے اپنے دونوں ازلی دشمنوں عیسائیوں اور مسلمانوں کو آگے لگا رکھا ہے۔

میری درخواست ہے یہودیوں کے ہتھیاروں کو ان پر پلٹا دیں‘ آپ اسرائیل کی طرح صرف پی ایچ ڈی سکالرز کو پڑھا لکھا سمجھیں‘ کھول دیں اسلامی دنیا میں آکسفورڈ‘ ہارورڈ اور کولمبیا جیسی سو یونیورسٹیاں اور کر دیں پی ایچ ڈی تک تعلیم کو لازمی‘ آپ سکولوں میںڈرون ٹیکنالوجی سے تعلیم شروع کریں‘ ہمارا ہر بچہ ڈرون بنانے اور اڑانے کا ایکسپرٹ ہونا چاہیے‘ آپ بنا دیں مکہ‘ مدینہ‘ کربلا‘ مشہد اور دمشق کو ٹیکنالوجی پارک اور آپ اہل یہود کی طرح کر دیں تجارت ہر شخص پر فرض اور آخر میں آپ اسرائیل کی طرح ہر مسلمان کے لیے عسکری تربیت کو بھی لازمی قرار دے دیں ۔

اور آپ یہ فیصلہ بھی کر دیں کوئی شخص اگر مومن ہے تو وہ بیمار نہیں ہو سکتا‘ ورزش اور فزیکل فٹ نس اس کے لیے پانچ وقتہ نماز کی طرح لازمی ہو گی‘ ہم پھر ہی بچ سکیں گے ورنہ اسرائیل تو بڑی بات ہے ہمیں برما کے بودھ ہی توڑ پھوڑ کر رکھ دیں گے یا پھر ہم کراچی کے شہریوں کی طرح گٹروں کے پانی میں ڈوب ڈوب کر مر جائیں گے لہٰذا بھائیو آنکھیں کھولو‘ حقائق دیکھو‘ سعودی عرب کی فضائیں بھی صیہونی طیاروں کے لیے کھل چکی ہیں اور ہم نے تو انہیں کبھی روکا ہی نہیں تھا۔


زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎