ڈی این اے

  اتوار‬‮ 26 جولائی‬‮ 2020  |  6:01

مسافر کے ایک دوست ہیں افنان ‘ سرکاری افسر ہیں اور اعلیٰ پوزیشن پر کام کر رہے ہیں‘ یہ چند دن پہلے تفتان کے راستے ایران کے سرحدی قصبے زاہدان گئے‘ ان کے بقول ’’کوئٹہ سے تفتان تک 10 گھنٹے کا سفر تکلیف دہ تھا‘ دور دور تک آبادی کا نام و نشان نہیں ‘چائے خانے تھے اور نہ ہوٹل‘مسافر اپنا کھانا ساتھ لے کر سفر کرتے ہیں‘ سڑک جگہ جگہ سے پنکچر تھی‘ تفتان بھی مشکل‘ گندی اور ناقابل برداشت جگہ ہے‘ لوگ پھٹے پرانے کپڑوں میں دکھائی دیتے ہیں اور ان کے چہروں پر غربت‘بے چارگی اور بیماری نظر آتی ہے لیکن ہم جوں ہی ایران میں داخل ہوئے ہمیں ہر چیز 360 درجے پر تبدیل ہوتی نظر آئی‘‘۔مسافر بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتا

چلے آج کا بلوچستان تاریخ میں سیستان کہلاتا تھا‘ یہ پورا ملک تھا اور اس کی سرحدیں آج کے ایرانی صوبے کرمان‘ پاکستان کے علاقے خضدار اور افغانستان میں ہلمند تک پھیلی ہوئی تھیں‘ یہ بعدازاں تین حصوں میں تقسیم ہو گیا‘ بڑا حصہ پاکستان میں شامل ہو کر بلوچستان بن گیا اوردو چھوٹے حصے ایران اور افغانستان میں شامل ہو گئے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں سرحد کی ایک سائیڈ پر بھی بلوچستان ہے اور دوسری اور تیسری سائیڈ پر بھی بلوچستان لیکن ہمارا بلوچستان ویران‘ بیابان اور بنجر ہے جب کہ ایرانی افغانی بلوچستان سرسبز اور خوش حال‘ ایسا کیوں ہے؟ دو وجوہات ہیں‘ ایران نے افغان حکومت کے ساتھ مل کر افغانستان میں دریائے ہلمند پر ڈیم بنوایا اور اس پانی سے اپنا اور افغانستان کا بلوچ علاقہ زرخیز بنا لیا جب کہ ہم نے اپنے علاقے کو حالات پر چھوڑ دیا‘ دوسری وجہ ایرانی ہیں‘ یہ اپنی زمین سے محبت کرتے ہیں چناں چہ یہ اسے سنوارتے رہتے ہیں‘ افنان کے بقول زاہدان اسلام آباد سے زیادہ خوب صورت تھا‘ سڑکیں بڑی بڑی ‘ مارکیٹیں آباد اور لوگ خوش حال جب کہ ہماری سائیڈ سے یہ تینوں نعمتیں غائب ہیں اور ہم اس کے باوجوداعتراض کرتے ہیں دنیا ہماری عزت نہیں کرتی‘ہمیں کوئی بتائے جب سرحدوں پر ویرانی اور نحوست ہو گی تو دنیاکیوں عزت کرے گی؟ ائیرپورٹس‘ بس سٹاف‘ ٹرین سٹیشنز اور سرحدی چیک پوسٹیں ملکوں کا تعارف ہوتی ہیں چناں چہ ملک چن چن کر خوب صورت‘ ایکٹو اور مہذب سٹاف کو انٹری پوائنٹس پر تعینات کرتے ہیں‘ آپ ازبکستان‘ تاجکستان‘ قازقستان اور ایتھوپیا کے ائیرپورٹس پر بھی جا کردیکھ لیں‘ آپ کی طبیعت خوش ہو جائے گی جب کہ آپ اپنے کسی ائیرپورٹ پر لینڈ کر کے دیکھیں آپ کی خوشی چند لمحوں میں ٹھکانے پر آ جا ئے گی‘ کیوں؟ کیوں کہ ہم پورے ملک سے چن کربدتمیز‘ بیمار اور سست لوگوں کو ائیرپورٹس پر پوسٹ کرتے ہیں‘ آپ اسی طرح سوست بارڈر سے چین اور تفتان سے ایران میں داخل ہو کر دیکھیں آپ کو دو نوں سائیڈز پر زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ ہماری سائیڈ پر نفرت‘بدتمیزی اور مکھیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا جب کہ دوسری طرف صفائی‘ سہولت اور خوش آمدید ہو گا لہٰذا مسافر کی ذلفی بخاری سے درخواست ہے یہ اگر پاکستان میں واقعی سیاحت کو انڈسٹری بنانا چاہتے ہیں تو یہ صرف زمینی اور فضائی سرحدوں کو آرام دہ‘ خوب صورت اور باعزت بنا دیں ملک میں سیاحت خود بخود شروع ہو جائے گی‘آپ یہ ذہن میں رکھیں دنیا بے عزت اور بے آرام ہونے دوسرے ملکوں میں نہیں جاتی‘سیاح اچھا وقت گزارنا چاہتے ہیں اور اگر لینڈ کرتے ہی ان کی ملاقات بغلولوں سے ہو جائے گی اور بغلول گورے میاں بیوی سے ان کے بچوں کی تعداد یا سیلری پوچھ لیں گے تو وہ یہاں کیوں آئیں گے لہٰذا مسافر کی منت ہے آپ صرف ملک کا تعارف اچھا کر دیں سیاحت فوراً ٹھیک ہو جائے گی۔ہم ایسے کیوں ہیں؟مسافر اب اس سوال کی طرف آتا ہے ‘ اس کی وجہ ہم عوام ہیں‘ ملکوں کو حکومتیں صاف ستھرا نہیں رکھتیںلوگ رکھتے ہیں‘اگر لوگوں میں سینس نہیں ہو گی تو حکومت خواہ ان کے گرد جنت بھی آباد کر دے تو یہ چند دنوں میں اس کا جنگلا بھی توڑ کر دودھ اور شہد کی نہروں میں نہانا شروع کر دیں گے چناں چہ ایشو حکومتیں نہیں عوام ہیں اور عوام ایسے کیوں ہیں اس کی ذمہ داری انگریز راج کے سر جاتی ہے۔انگریز نے 1857ء میں ہندوستان پر باقاعدہ قبضہ کر لیا تھا اور ہماری تمام عمارتوں پر ملکہ برطانیہ کاجھنڈا لہرانا شروع ہو گیا تھا‘ہندوستان میں انگریز کا پہلا چیلنج انفراسٹرکچر تھا‘ بدقسمتی سے محمود غزنوی سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک کسی بادشاہ نے برصغیر میں انفراسٹرکچر نہیں بنایا تھا‘ ہندوستان میں پہلا پل انگریز نے تعمیر کیا تھا‘ انگریز سے پہلے برصغیر میں مون سون میں پورا ملک رک جاتا تھا‘ لوگ اپنے اپنے شہروں تک محدود ہو جاتے تھے‘ حملہ آور تک مون سون سے پہلے یہاں سے نکل جاتے تھے‘محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی کو اسی لیے سترہ سترہ حملے کرنا پڑے‘ کیوں؟ کیوں کہ انہیں مون سون سے پہلے ہر صورت ہندوستان سے نکلنا پڑتا تھا ورنہ دوسری صورت میں منجنیقیں‘ بیل گاڑیاں اور فوجی گھوڑے کیچڑ میں دھنس جاتے تھے اور فوج ہیضہ اور ملیریا کی وجہ سے مرنے لگتی تھی چناں چہ ہندوستان کے تمام حملہ آور جولائی میں درہ خیبر پار کر جاتے تھے‘انگریز نے آ کرصدیوں کیاس مشقت کا مستقل حل تلاش کیا اور وہ حل انفراسٹرکچرتھا لہٰذا انگریز نے سڑکیں بھی بنوائیں‘ پل بھی‘ ریل بھی‘ ڈاک خانے بھی‘ ٹیلی گرام بھی‘ ریڈیو بھی‘ ٹیلی فون بھی اور بجلی کی لائنیں بھی‘ انگریز کو یہ انفراسٹرکچر بنانے اور پھر چلانے کے لیے ادارے اور لوگ چاہیے تھے لہٰذا یہ تعلیمی نظام ‘ بیورو کریٹک سسٹم اور تاریخ کی پہلی ریگولر آرمی بنانے پر مجبور ہو گیا‘ انگریز سے پہلے ہندوستان میںریگولر آرمی نہیں ہوتی تھی‘ ملک ہزاروی‘ پانچ ہزاروی اور دس ہزاروی جاگیروں میں تقسیم تھا‘ ہزاروی کا مطلب ہزار فوجی‘ پانچ ہزاروی کا پانچ ہزار فوجی اور دس ہزاروی سے مراد دس ہزار فوجی ہوتے تھے‘ یہ فوجی بادشاہ کی ملکیت ہوتے تھے لیکن ان کے اخراجات نواب اٹھاتے تھے‘ بادشاہ ضرورت پڑنے پر انہیں طلب کر لیتا تھا اور یہ تخت کی طرف سے لڑتے تھے تاہم بادشاہ بغاوت کےخوف سے کسی نواب کو دس ہزار سے زیادہ فوجی‘ گھوڑے اور تلواریں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا تھا‘ انگریز نے آ کر پہلی بار سینٹرل آرمی بنائی اور فوجیوں کو باقاعدہ ملازم رکھا‘یہ براہ راست ملکہ کے ملازم ہوتے تھے‘ انگریز نے پورے ملک میں سکولوں اور کالجوں کاجال بھی بچھا دیا اور انگریز نے ملک کا نظم ونسق چلانے کے لیے ایک باقاعدہ بیوروکریسی بھی بنالی‘ اب سوال یہ ہے ان تینوں اداروں کےمقاصد کیا تھے؟ برٹش آرمی کا واحد مقصد مقامی لوگوں اور بغاوتوں کو دبا کر رکھنا اور سرکاری انفراسٹرکچر کی حفاظت تھا‘ یہ مقصد آج بھی سارک ممالک کی فوجوں کے ڈی این اے میں موجود ہے‘ مثلاً آپ انڈین آرمی کو لے لیجیے‘ یہ آج تک باہر سے کوئی حملہ نہیں روک سکی‘15 جون2020ء کا واقعہ دیکھ لیجیے‘ چین کے چھوٹے سے دستے نے لداخ میں انڈین فوج کے 20فوجی کرنل سمیت مارڈالے لیکن انڈین آرمی کی پوری رجمنٹ ان کا مقابلہ نہ کر سکی‘کیوں؟ کیوں کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے‘ انگریز کے دور میں انڈین آرمی کے دستے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جس بھی محاذ پر گئے یہ مورچوں میں دفن ہوئے‘ فرانس کے شہر گوینچی میں انڈین آرمی کے تمام فوجی افسروں سمیت مارے گئے تھے ‘ ان میں لاہور کے ساڑھے تین ہزار فوجی بھی شامل تھے لیکن دہلی کے لال قلعہ پرمغل سلطنت کا جھنڈا اتار کر ملکہ کا پرچم لگانا ہو‘ جھانسی کی رانی‘ ٹیپو سلطان‘ سراج الدولہ‘ منگل پانڈے‘ میر آف خیر پور‘ سندھ کے تالپور ‘ میر آف قلات یاپھر پنجاب کی سکھ فوج کا مقابلہ کرنا ہو برٹش آرمی کی کوئی مقامی مہم ناکام نہیں ہوئی چناں چہ برصغیر کی افواج کا ڈی این اے ہے یہ ملک کے اندر کسی کو چھینک تک نہیں مارنے دیتی‘ یہ کشمیریوں کو بھی پچاس پچاس سال تک دبالے گیلیکن یہ کسی بیرونی حملہ آور کا مقابلہ نہیں کرسکے گی‘ کیوں؟ کیوں کہ انگریز نے آرمی بنائی ہی مقامی لوگوں کے لیے تھی‘یہ بیرونی حملہ آوروں کے لیے نہیںتھی‘ یہ انفراسٹرکچر میں بھی خصوصی دل چسپی لیتی ہے ‘ کیوں؟ کیوں کہ 1800ء سے انفراسٹرکچر ان کی پرائمری ڈیوٹی رہا لہٰذا یہ ہمیشہ سڑکوں‘ پلوں اور ڈیموں میں دل چسپی لیتے ہیں‘ دوسرا انگریز نے تعلیمی نظام انفراسٹرکچر کونوکرسپلائی کرنے کے لیے بنایا تھا چناں چہ آج بھی سارک ملکوں کے طالب علم تعلیم مکمل کرنے کے بعد صرف نوکری تلاش کرتے ہیں‘ پاکستان میں بھی ڈاکٹرز‘ انجینئرز اور ایم بی اے اپنا کام نہیں کرنا چاہتے‘ یہ سرکاری ملازمت تلاش کرتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ اس تعلیمی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں جس کے ڈی این اے میں ملازمت ہے ‘ آپ ارب پتیوں کے منہ سے بھی کبھی نہ کبھی یہ ضرور سنیں گے’’فیکٹری لگانے سے اچھا تھا میں ملازمت ہی کر لیتا‘‘ یہ کیا ہے؟ یہ اس تعلیمی نظام کا ڈی این اے بولتا ہے اور انگریز نے ایک ایسی بیورو کریسی بھی بنائی جس کا صرف ایک کام تھا اور وہ تھا ’’یس باس‘‘ہندوستان کی بیورو کریسی عوام کے لیے بنائی ہی نہیں گئی تھی‘یہ باسز کو خوش کرنے کے لیے بنائی گئی تھی لہٰذا آپ آج بھی کسی دفتر چلے جائیں آپ کو سارا دفتر باس کی طرف دیکھتا نظر آئے گااور جوں ہی وہ باس بدل جائے گا یہ لوگ پرانے افسر کو پہچاننے تک سے انکار کر دیں گے اور یہ بیوروکریٹک سسٹم کا ڈی این اے ہے چناں چہ تعلیمی نظام نوکر پیدا کرنے کے لیے بنا تھا‘ بیوروکریسی کا مقصد باسز کو خوش رکھنا تھا اور فوج مقامی لوگوں کو دبانے کے لیے بنائی گئی تھی اور ان تینوں کا ہدف کون تھا ؟ عوام تھے‘ آج بھی سارک ممالک کے یہ تینوں نظام عوام کی پس ماندگی‘جہالت اور جذباتیت سے توانائی لیتے ہیں لہٰذا جب تک عوام جذباتی‘ جاہل اور پس ماندہ رہیں گے سارک ملکوں کی فوجیں‘بیوروکریسی اور تعلیمی نظام تینوں مضبوط رہیں گے اور جب تک یہ مضبوط رہیں گے اس وقت تک اس خطے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی‘ ہم اس وقت تک ایک دوسرے سے لڑتے اور مرتے مارتے رہیں گے اور یہ اس خطے کا ڈی این اے بن چکا ہے ۔


موضوعات: