منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

’’سائنس محمد ﷺ کا پتہ پوچھ رہی ہے ‘‘

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مسلمانوں میں1400سال سے پہلے سے دراڑھی رکھنے کی خوبصورت روایت چلی آ رہی ہے اور اب پہلے دفعہ جدید مغربی سائنس نے بھی اسکے بے شمار فوائد کو تسلیم کر لیا ہے۔برطانیہ میں ڈاکٹر ایڈ ین مونٹی اور دیگر سائنسدانوں نے انسانی صحت پر داڑھی کے بے شمار مثبت اثرات دریافت کئے ہیں جن میں سے چند اہم کا ذکر درج ذیل ہے ۔

1شیو کے دوران جلد پر زخم آنے سے فولی کلیٹس باربی نامی بیماری پیداہو جاتی ہے جس میں ایک بیکٹریا جلد میں انفیکشن پیداکرد یتا ہے ، داڑھی رکھنے سے یہ مصیبت قریب بھی نہیں آئی۔-2داڑھی اور مونچھوں کے بال گردوغبار اور پولن زرات کو اپنی طرف کھینچ کرناک اور نظام تنفس میں جانے سے روکتے ہیں اور یوں الرجی سے تحفظ مل جاتاہے ۔-3چہرے کے گھنے بال جلد کو سورج کی الڑوائلٹ شعاعوں سے بچا کر جلد کے کینسر سے 90سے 95فیصد تک تحفظ فر اہم کردیتے ہیں ۔-4چہرے کی جلد پر دھوپ اور ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے جھریاں پڑنے کا عمل شروع ہو جاتاہے جبکہ داڑی کی صورت میں جھریوں کا مسئلہ بہت ہی کم رہ جاتا ہے ۔-5شیو کرنے سے بال جلد کے اندر تک کٹ سکتے ہیں اور جب یہ دوبارہ بڑھتے ہیں تو ان میں سے کوئی جلد اندر ہی بڑھ کر دانوں اور کیل سہاسوں کا سبب بن جاتاہے ۔داڑھی اس مسئلہ سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔-6دمہ کی مشہور برطانوی ڈاکٹر ڈیبوراویڈل کہتی ہیں کہ داڑھی کے بال دمہ پیدا کرنے والے خطرناک جرثوموں سے پھیپڑوں کو بچاتے ہیں اور انسان کو دمہ جیسی فوزی بیماری سے تحفظ مل جاتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…