منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

’’3عجیب و غریب سوال‘‘

datetime 27  ستمبر‬‮  2017 |

زمین کا وہ کونسا حصہ ہے جس پر صرف ایک مرتبہ سورج نے اپنی کرنیں بکھریں اور پھر کبھی ایسا نہ ہو سکے گا اور وہ کون سی قبر ہے جس کا مدفون اور قبر دونوں زندہ تھےاور قبر اپنے مدفون کو سیر کراتی رہی، یہ بھی بتائیں کہ وہ کونسا قیدی ہے جو قید خانے میں سانس نہیں لیتا اور بغیر سانس لئے زندہ رہتا ہے ۔ یہ وہ سوالات تھے جن کے جوابات حضرت عمرؓ نے

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے تحریر کروا کر ایک عیسائی بادشاہ کے بھیجے گئے خط کے جواب میں ارسال کئے۔ سوال کے جوابات کچھ ایسے تھے کہ جس زمین پر صرف ایک بار سورج چمکا وہ زمین دریائے قلزم کی تہہ ہے جہاں فرعون غرق ہوا نیز حضرت موسیؑ قوم بنی اسرائیل کے ساتھ پار اتر گئے تھے۔ حضرت موسیؑ کے معجزے سے دریا کا وہ حصہ خشک ہو گیا اور دریا کی تہہ کو سورج نے بحکم خدا بہت جلد خشک کر دیا تھا۔ اس زمین پر ساری عمر میں سورج صرف ایک ہی مرتبہ نکلا اور آئندہ کبھی نہیں نکلے گا۔ وہ قبر جس کا مدفون اور قبر دونوں زندہ تھے اور قبر اپنے مدفون کو سیر کراتی رہی وہ حضرت یونسؑ کی مچھلی تھی جس نے آپ کو نگل لیا تھا اور آپ مچھلی کے پیٹ میں تین دن اور تین راتیں سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں محو سفر رہے۔بائبل میں ’’بک آف جونا ‘‘میں حضرت یونسؑ کا واقعہ ’’سائن آف جونا‘‘یعنی حضرت یونسؑ کا معجزہ کے نام سے آج بھی موجود ہے اوربمطابق بائبل جب حضرت عیسیٰؑ مصلوب ہو گئے اور آپ ؑ پر ایمان لانے والے ایک شخص نے آپ ؑ کی لاش کو ایک غار میں دفن کر دیا تو تین دن اور تین راتوں کے بعد آپ دوبارہ زندہ ہوئے اوربنی اسرائیل میں آئے تو انہوں نے آپ ؑ کے دوبارہ زندہ اور مجسم ہونے پر حیرت کا اظہار کیا جس پر آپؑ نے انہیں حضرت یونس ؑ کا معجزہ پیش

کرتےہوئے کہا تھا کہ میرا بھی یہ معجزہ ہے کہ جیسے حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں تین دن اور تین راتیں دفن رہے اورمچھلی کے اگل دینے کے بعد زندہ سلامت رہے اسی طرح میں تین دن اور تین رات غار میں زندہ رہا۔تیسرے سوال کا جواب جس میں عیسائی بادشاہ نے پوچھا تھا کہ جو قیدی قید خانے میں سانس نہیں لیتا اور بغیر سانس لئے زندہ رہتا ہے اس کا جواب عیسائی

بادشاہ کو یہ دیا گیا کہ وہ قیدی بچہ ہے جو ماں کے شکم میں قید ہے اور خدا نے اس کے سانس لینے کا ذکر نہیں کیا اور نہ وہ سانس لیتا ہے اور پھربھی وہ زندہ رہتا ہے ۔عیسائی بادشاہ یہ جوابات دیکھ کر حیران رہ گیا اور بولا کہ یہ جوابات سوائے نبی یا اس کی دی گئی تعلیمات کے نتیجے میں ہی ممکن ہو سکتے ہیںکوئی اور ان کے جوابات نہیں بتا سکتا سکتا۔(استفادہ: حسن القصص، ص۲۶۲)



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…