منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ترک محقق کا حضرت نوحؑ کی کشتی ڈھونڈنے کا دعویٰ

datetime 25  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حضرت نوحؑ کی کشتی سے متعلق ایک نئی تحقیق نے ایک بار پھر دنیا بھر میں دلچسپی پیدا کردی ہے۔

مذہبی روایات کے مطابق اس کشتی نے عظیم طوفان کے دوران حضرت نوحؑ، انسانوں اور دیگر جانداروں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔روایتی طور پر کہا جاتا ہے کہ کشتی مشرقی ترکی کے علاقے میں واقع تندروک پہاڑ کے قریب دروپینار نامی مقام پر آ کر ٹھہری تھی۔ اس مقام کی زمینی ساخت دور سے ایک بڑی کشتی جیسی دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق یہ تقریباً 515 فٹ طویل ساخت قدرتی زمینی تشکیل بھی ہوسکتی ہے۔تاہم حالیہ تحقیق میں ترک نژاد امریکی عسکری سائنسدان ڈاکٹر خسرو بختیار کی جانب سے تیار کردہ خصوصی ریڈار ٹیکنالوجی استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نظام برقی مقناطیسی لہروں کے ذریعے زمین کے اندر موجود ساختوں کا جائزہ لینے میں مدد دیتا ہے۔تحقیق کے دوران زیرِ زمین ایک ایسی ساخت کی نشاندہی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جو شکل و صورت میں کشتی سے مشابہت رکھتی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد محققین کی جانب سے مزید تحقیق اور ممکنہ کھدائی کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے تاکہ زیرِ زمین موجود ساخت کی حقیقت کا تعین کیا جاسکے۔

اس دعوے نے مذہبی حلقوں اور اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ ڈاکٹر خسرو بختیار اور ان کی ٹیم مزید شواہد حاصل کرنے کے لیے مذکورہ مقام پر تحقیق آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔قرآنِ مجید میں حضرت نوحؑ کی کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ کو ’’الجودی‘‘ کہا گیا ہے، تاہم اس مقام کی قطعی جغرافیائی شناخت پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مقامی طور پر تندروک پہاڑ کی ایک چوٹی کو بھی ’’الجودی‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔واضح رہے کہ زیرِ زمین کشتی نما ساخت کی موجودگی اور اسے حضرت نوحؑ کی کشتی قرار دینے کا دعویٰ ابھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہوا، اس کے لیے مزید سائنسی تحقیق اور آثار کی جانچ ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…