ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

خود کو ویمپائر سمجھنے والا شخص جانوروں کا خون پینے پر گرفتار

datetime 4  اگست‬‮  2026 |

لندن(این این آئی)برطانیہ میں خود کو ویمپائر سمجھنے والے ایک شخص کو جانوروں کو قتل کر کے ان کا خون پینے اور لاشیں جنگل میں گرجا گھروں کے باہر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

48 سالہ بینجمن لیوس مقامی کسانوں کے مویشی چوری کر کے انہیں قتل کرتا اور ان کا خون پیتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا ماننا تھا کہ جانوروں کا خون پینے سے وہ ہمیشہ زندہ رہ سکے گا، جہنم سے بچ جائے گا اور ویمپائر بن جائے گا۔پولیس نے ٹریپ لیوس نامی آپریشن کے دوران اہم مذہبی اور شیطانی کیلنڈر کی تاریخوں پر گرجا گھروں کے اطراف نگرانی شروع کی، جس کے نتیجے میں ملزم کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کو ملزم تک پہنچنے میں ایک بھیڑ کے بچے کی باقیات سے ملنے والے ڈی این اے شواہد نے مدد فراہم کی۔عدالت میں لیوس نے خود کو کانٹ ڈریکولا کے نام سے متعارف کرایا۔

اس نے سنگین نوعیت کے الزامات، جن میں جان بوجھ کر ہراساں کرنے، خوف و ہراس پھیلانے، ذہنی اذیت دینے اور مویشی چوری کرنے کے الزامات شامل ہیں جن کا اس نے اعتراف کیا۔عدالت نے حکم دیا کہ لیوس کو فی الحال اسپتال میں زیرِ حراست رکھا جائے گا اور اس کی رہائی کا فیصلہ ذہنی صحت سے متعلق ٹریبونل یا وزیرِ انصاف کی جانب سے اسے محفوظ قرار دیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔ملزم نے اپنے متاثرین سے معذرت بھی کی اور پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار کر کے اچھا کیا۔پولیس چیف جیسیکا سرمین نے اس کیس کو اپنے کیریئر کا سب سے غیر معمولی مقدمہ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی لگتا تھا کہ اس کیس کی عجیب و غریب نوعیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، تو کوئی نیا واقعہ سامنے آ کر صورتِ حال کو مزید حیران کن بنا دیتا تھا۔پولیس کے مطابق لیوس کو اس سے قبل بھی 2003 میں ایک خاندان کو خود کو ویمپائر ظاہر کر کے خوفزدہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…