جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

خود کو ویمپائر سمجھنے والا شخص جانوروں کا خون پینے پر گرفتار

datetime 4  اگست‬‮  2026 |

لندن(این این آئی)برطانیہ میں خود کو ویمپائر سمجھنے والے ایک شخص کو جانوروں کو قتل کر کے ان کا خون پینے اور لاشیں جنگل میں گرجا گھروں کے باہر پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

48 سالہ بینجمن لیوس مقامی کسانوں کے مویشی چوری کر کے انہیں قتل کرتا اور ان کا خون پیتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا ماننا تھا کہ جانوروں کا خون پینے سے وہ ہمیشہ زندہ رہ سکے گا، جہنم سے بچ جائے گا اور ویمپائر بن جائے گا۔پولیس نے ٹریپ لیوس نامی آپریشن کے دوران اہم مذہبی اور شیطانی کیلنڈر کی تاریخوں پر گرجا گھروں کے اطراف نگرانی شروع کی، جس کے نتیجے میں ملزم کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کو ملزم تک پہنچنے میں ایک بھیڑ کے بچے کی باقیات سے ملنے والے ڈی این اے شواہد نے مدد فراہم کی۔عدالت میں لیوس نے خود کو کانٹ ڈریکولا کے نام سے متعارف کرایا۔

اس نے سنگین نوعیت کے الزامات، جن میں جان بوجھ کر ہراساں کرنے، خوف و ہراس پھیلانے، ذہنی اذیت دینے اور مویشی چوری کرنے کے الزامات شامل ہیں جن کا اس نے اعتراف کیا۔عدالت نے حکم دیا کہ لیوس کو فی الحال اسپتال میں زیرِ حراست رکھا جائے گا اور اس کی رہائی کا فیصلہ ذہنی صحت سے متعلق ٹریبونل یا وزیرِ انصاف کی جانب سے اسے محفوظ قرار دیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔ملزم نے اپنے متاثرین سے معذرت بھی کی اور پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار کر کے اچھا کیا۔پولیس چیف جیسیکا سرمین نے اس کیس کو اپنے کیریئر کا سب سے غیر معمولی مقدمہ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی لگتا تھا کہ اس کیس کی عجیب و غریب نوعیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، تو کوئی نیا واقعہ سامنے آ کر صورتِ حال کو مزید حیران کن بنا دیتا تھا۔پولیس کے مطابق لیوس کو اس سے قبل بھی 2003 میں ایک خاندان کو خود کو ویمپائر ظاہر کر کے خوفزدہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…