اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق زخمی ہونے والے زیادہ تر اہلکار علاج کے بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ 7 جولائی سے جاری جھڑپوں اور ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی اہلکار مختلف نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 96 فیصد زخمی فوجی صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی حکام نے حالیہ کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے مزید دو فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کی۔ دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق اردن اور شمالی عراق میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔رپورٹس کے مطابق اردن میں حملے کے مقام سے ملنے والے بعض ناقابل شناخت انسانی اعضا کا ڈی این اے اور فرانزک معائنہ جاری ہے، جس سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو سکتی ہے۔امریکی فوج نے یہ بھی بتایا کہ 18 جولائی کو شمالی عراق میں ایک کارروائی کے دوران ایک اہلکار جان سے گیا، جبکہ اس سے قبل اردن میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک، چار زخمی اور ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی امریکہ ایرانی حملوں میں تین فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر چکا ہے،
جبکہ ایک اہلکار کے بارے میں تاحال معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔پینٹاگون کے دستیاب ریکارڈ اور ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق رواں تنازع کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 14 امریکی فوجی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ زخمی اہلکاروں کی تعداد 427 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں 413 فوجی پہلے ہی مختلف کارروائیوں کے دوران زخمی ہوئے تھے، جبکہ جولائی میں ہونے والے تازہ حملوں کے اعداد و شمار الگ شمار کیے جا رہے ہیں۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے ایران میں مخصوص اہداف پر رات کے وقت فضائی حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ تجارتی بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے اردن، کویت، بحرین اور خطے کے دیگر ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔



















































