ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے بچنےکیلئے اہم فیصلہ کر لیا

datetime 14  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دبئی کی بندرگاہ پر انحصار کم کرنے اور آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ اختیار کرنے کے لیے نئی بندرگاہ قائم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی کی معروف پورٹ آپریٹنگ کمپنی ڈی پی ورلڈ مشرقی ریاست فجیرہ میں ایک جدید کثیرالمقاصد بندرگاہ تعمیر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت جاری ہے، جبکہ فجیرہ کی موجودہ بندرگاہ میں نئے کنٹینر ٹرمینل کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے۔رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد جبل علی بندرگاہ پر انحصار میں کمی لانا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے پر سیکیورٹی خدشات اور بحری نقل و حمل متاثر ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ماہرین کے مطابق نئی بندرگاہ متحدہ عرب امارات کی اس طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک اپنی تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو ممکنہ علاقائی تنازعات کے اثرات سے محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد کنٹینرز کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بھی امارات کے اندر اور باہر منتقل کیا جا سکے گا۔

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی سمت ہزاروں ڈرونز اور میزائل فائر کیے گئے، جس نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا۔ڈی پی ورلڈ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اگر تمام معاملات طے پا گئے تو نئی بندرگاہ کی تعمیر تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل کی جا سکتی ہے۔ تاہم اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد جبل علی بندرگاہ کی جگہ لینا نہیں بلکہ ملکی بندرگاہی نظام کو مزید مضبوط اور متنوع بنانا ہے۔واضح رہے کہ ابوظبی پہلے ہی اپنے خام تیل کا ایک حصہ فجیرہ کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچاتا ہے، جبکہ مستقبل میں آبنائے ہرمز پر انحصار مزید کم کرنے کے لیے اسی راستے سے تیل کی برآمدات بڑھانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…