ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں نے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کی تو تباہ کر دیں گے: ایران نے خبردار کر دیا

datetime 9  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبی راستے سے گزرنے والے تیل بردار جہاز اگر پیشگی اجازت کے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تو انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل برآمد کنندگان کی تنظیم کے ترجمان حامد حسینی کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس اہم گزرگاہ میں داخل اور خارج ہونے والی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھے، تاکہ جنگ بندی کے دوران اسے اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ہر جہاز کو اپنی کارگو تفصیلات پہلے ای میل کے ذریعے ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد متعلقہ ادارے ٹول فیس اور ادائیگی کے طریقہ کار سے آگاہ کریں گے۔ یہ فیس ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ادا کرنا ہوگی۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران نے تمام آئل ٹینکرز کے لیے ایک پیغام بھی جاری کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ گزرنے کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق تیل سے بھرے جہازوں پر فی بیرل ایک ڈالر کے حساب سے فیس عائد کی جائے گی، جبکہ خالی ٹینکرز کو بغیر فیس گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…