اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سخت اور متنازع بیان کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت اور حکام کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ مزاحمتی قوتیں باب المندب کو بھی آبنائے ہرمز جتنی اہمیت دیتی ہیں، اور اگر امریکا نے کوئی نئی جارحیت کی تو عالمی توانائی اور تجارتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے عوام کی فلاح کو نظر انداز کر کے دوسروں کو دھمکانے والا رہنما فرسودہ سوچ کا حامل ہے۔ اسی طرح ایرانی عدلیہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے مضبوط مؤقف نے امریکی صدر کو اشتعال میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث وہ نامناسب زبان استعمال کر رہے ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سخت الفاظ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنگی اقدامات سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی، بلکہ اس کے اثرات خود امریکی عوام کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور اس کا حل صرف ایران کے حقوق کو تسلیم کرنے میں ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے بھی عالمی ادارے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی ضمیر بیدار ہوتا تو ایسی کھلی دھمکیوں پر خاموشی اختیار نہ کی جاتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی باتیں جنگی جرائم کے مترادف ہیں اور عالمی برادری کو فوری اقدام کرنا چاہیے۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔



















































