اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی معروف نابینا پیشگو بابا وانگا کے نام سے منسوب دعوے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں یہ بات خاصی وائرل ہو رہی ہے کہ انہوں نے 2026 میں تیسری عالمی جنگ اور خلائی مخلوق سے رابطے کی پیشگوئی کی تھی، جس کے باعث عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔تاہم ماہرین اور مؤرخین ان دعوؤں کو مستند نہیں مانتے۔ ان کے مطابق بابا وانگا کا انتقال 1996 میں ہو چکا تھا اور انہوں نے اپنی پیشگوئیوں کو باقاعدہ تحریری شکل میں محفوظ نہیں کیا تھا۔ ان سے منسوب زیادہ تر باتیں زبانی روایات اور بعد میں کی جانے والی تشریحات پر مبنی ہیں، جو وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی یہ پیشگوئیاں عموماً مبہم ہوتی ہیں اور انہیں موجودہ عالمی حالات کے مطابق ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک دعویٰ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ 2028 تک انسان توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں سیارہ زہرہ کا رخ کرے گا، حالانکہ سائنسی طور پر یہ سیارہ انسانی زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔اسی طرح 2020 کی دہائی کے حوالے سے بھی کئی پیشگوئیاں منسوب کی گئیں، جن میں یورپ کے شدید معاشی بحران اور تقریباً تباہی کا ذکر کیا گیا تھا۔
اگرچہ کورونا وبا کے دوران یورپ کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ضرور ہوا، لیکن اس کے مکمل خاتمے یا زندگی کے ختم ہونے جیسے دعوے حقیقت ثابت نہیں ہوئے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی باتیں دراصل غیر یقینی حالات میں لوگوں کے خدشات اور خوف کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی پیشگوئیوں کو حقیقت سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور ثقافتی رجحان کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ مستند مستقبل بینی کے طور پر۔



















































