واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکی صدر کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی راستے میں واقع آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو چکی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر کیون ہیسٹ نے منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئل ٹینکرز معمول کے مطابق اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزر رہے ہیں، اور ایران کی جانب سے اس راستے کو متاثر کرنے کی کوششوں کے باوجود امریکی معیشت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹینکرز کی بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کی قوت میں کمی آ چکی ہے۔ ان کے مطابق جاری کشیدگی طویل نہیں ہوگی بلکہ چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں بہتری آسکتی ہے۔
کیون ہیسٹ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران کی جانب سے بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم اس سے امریکا کو معاشی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایشیائی ممالک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکا کو تیل کی سپلائی میں کمی کر سکتے ہیں، تاہم اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے متبادل حکمت عملی تیار ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران میں امریکی اقدامات بالواسطہ طور پر چین کے مفادات کے لیے بھی مفید ہو سکتے ہیں، اور اگر تنازع جلد ختم ہو گیا تو توقع ہے کہ چین کی قیادت اس پیش رفت کو سراہ سکتی ہے۔



















































