ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر کی پیشکش کردی

datetime 14  مارچ‬‮  2026 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپلومیٹک سکیورٹی سروس کے پروگرام ریوارڈز فار جسٹس نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے متعدد اہم رہنمائوں سے متعلق معلومات کے بدلے 10 ملین ڈالر تک کے انعام کا اعلان کردیا۔

پروگرام کے مطابق یہ افراد پاسدارانِ انقلاب کے مختلف دھڑوں کی قیادت اور انتظام سنبھالے ہوئے ہیں جس پر دنیا بھر میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کا الزام ہے۔پروگرام نے ان رہنمائوں یا پاسدارانِ انقلاب کی مختلف شاخوں کے بارے میں معلومات رکھنے والے کسی بھی شخص سے کہا ہے کہ وہ ٹور نیٹ ورک پر موجود خفیہ پلیٹ فارم یا سگنل ایپ کے ذریعے معلومات فراہم کرے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والا شخص مالی انعام اور اپنی رہائش کا مقام بدلنے کا اہل ہو سکتا ہے۔امریکی پروگرام کے اعلان کے مطابق فہرست میں پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی سکیورٹی اداروں سے وابستہ کئی شخصیات شامل ہیں۔ ان میں یہ نام نمایاں ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبی خامنہ ای، سپریم لیڈر کے دفتر کے نائب سربراہ علی اصغر حجازی، سپریم لیڈر کے سینئر فوجی مشیر یحیی رحیم صفوی، سپریم لیڈر کے مشیر اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق سیکرٹری علی لاریجانی، ایرانی وزیر برائے انٹیلی جنس و سیکیورٹی اسماعیل خطیب اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی۔

اس فہرست میں دیگر عہدوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری، سپریم لیڈر کے مشیر، سپریم لیڈر کے ملٹری آفس کے سربراہ اور پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر شامل ہیں۔ پروگرام نے معلومات رکھنے والوں کو سرکاری ذرائع جن میں ایکس اکانٹ @RFJ_USA بھی شامل ہے یا مخصوص بین الاقوامی نمبر پر رابطہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ ریوارڈز فار جسٹس امریکی محکمہ خارجہ کا ایک اقدام ہے جو ان معلومات کے بدلے مالی انعامات دیتا ہے جو واشنگٹن کے بقول دہشت گردی اور بین الاقوامی سیکیورٹی خطرات کے خلاف مددگار ثابت ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…