ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کے مسلسل حملے: خلیجی ممالک کے پاس میزائل گرانے والے انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ

datetime 3  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کی جانب سے تسلسل کے ساتھ کیے جانے والے حملوں کے تناظر میں خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظام سے متعلق نئے خدشات سامنے آ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میزائل اور ڈرون مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایک امریکی اخبار نے دفاعی ماہرین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگر انٹرسیپٹرز کے استعمال کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ ایک ہفتے کے اندر بعض ممالک کو ان کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور قطر نے اس حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستیں جدید امریکی دفاعی نظام سے لیس ہیں اور ان کے پاس دنیا کے مؤثر ترین فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، اس لیے انٹرسیپٹرز کی کمی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

ادھر امریکی اخبار نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ یوکرین میں چار برس سے جاری جنگی معاونت کے باعث پینٹاگون کے پاس بھی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے میزائلوں کا ذخیرہ بتدریج کم ہو رہا ہے، جو واشنگٹن کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…