اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کی جانب سے تسلسل کے ساتھ کیے جانے والے حملوں کے تناظر میں خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظام سے متعلق نئے خدشات سامنے آ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میزائل اور ڈرون مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایک امریکی اخبار نے دفاعی ماہرین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگر انٹرسیپٹرز کے استعمال کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ ایک ہفتے کے اندر بعض ممالک کو ان کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور قطر نے اس حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستیں جدید امریکی دفاعی نظام سے لیس ہیں اور ان کے پاس دنیا کے مؤثر ترین فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، اس لیے انٹرسیپٹرز کی کمی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
ادھر امریکی اخبار نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ یوکرین میں چار برس سے جاری جنگی معاونت کے باعث پینٹاگون کے پاس بھی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے میزائلوں کا ذخیرہ بتدریج کم ہو رہا ہے، جو واشنگٹن کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔



















































