ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بچے نے ماں کے لاکھوں روپے کے طلائی ہار کے ٹکڑے کرکے اسکول کے دوستوں میں بانٹ دیے

datetime 8  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسکولوں میں بچے عام طور پر اپنے دوستوں کو چھوٹے موٹے تحائف دیتے ہیں، جو ایک معمول کی بات ہے،مگر چین میں پیش آنے والا ایک واقعہ اس روایت کو بالکل مختلف رخ دے گیا۔مشرقی چین کے صوبہ شان ڈونگ کے شہر زاوزوانگ میں ایک 8 سالہ لڑکے نے اپنی ماں کا قیمتی طلائی ہار پلاس کی مدد سے کئی حصوں میں توڑ کر اپنے ہم جماعت بچوں میں تحائف کے طور پر بانٹ دیا۔ حیرت انگیز طور پر اس حرکت کا انکشاف ایک ماہ بعد ہوا اور تب تک والدین کے پاس کچھ بھی واپس لانے کا موقع نہیں بچا تھا۔لڑکے کی والدہ، جن کی شناخت صرف “سن” کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اگرچہ یہ بات کسی شرارت آمیز کہانی جیسی لگتی ہے، لیکن بدقسمتی سے مکمل سچ ہے۔

ان کے مطابق یہ بات انہیں اس وقت معلوم ہوئی جب بیٹی نے بتایا کہ بھائی کی کلاس کے ایک طالبعلم نے اس کے ہاتھ میں سونے کا ٹکڑا دیکھا، جو اسے لڑکے نے تحفے میں دیا تھا۔ماں کے پوچھنے پر بیٹے نے اعتراف کیا کہ اس نے شادی کے موقع پر والد کی جانب سے دیا گیا ہار نکال کر توڑا اور پھر اس کے ٹکڑے دوستوں میں تقسیم کردیے۔سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی پتہ چلا کہ بچہ الماری سے ہار نکال کر اسے پلاس سے چھوٹے چھوٹے حصوں میں کاٹ رہا تھا۔بچے کا کہنا تھا کہ اسے یاد نہیں کہ کتنے بچوں کو سونا دیا اور باقی ٹکڑے کہاں رکھے، نتیجتاً گھر والوں کو صرف ایک ننھا سا ٹکڑا ہی واپس مل سکا۔جب والدین نے اس سے پوچھا کہ کیا اسے اس بات کا اندازہ ہے کہ سونا کتنی بڑی قیمت رکھتا ہے، تو بچہ لا علم نظر آیا،جس پر باپ نے غصے میں آکر اسے سزا بھی دی۔خاتون کے مطابق اس ہار کی مالیت 7200 یوان تھی، یعنی پاکستانی روپے میں تقریباً دو لاکھ پچاسی ہزار سے زائد۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…