منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا نے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزم پاکستانی نژاد تہور رانا کو بھارت کے حوالے کردیا

datetime 11  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں میں مبینہ طور پر ملوث پاکستانی نژاد کینیڈین شہری تہور حسین رانا کو امریکہ سے بھارت منتقل کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ جمعرات کے روز سخت سیکیورٹی کے حصار میں نئی دہلی کے قریب ایک فوجی ایئر بیس پر پہنچے۔بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے مطابق، تہور رانا کی حوالگی ایک طویل قانونی عمل اور بین الاقوامی تعاون کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد حملے میں ملوث اہم کرداروں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔

این آئی اے نے اسے ’ممبئی حملے کے مرکزی سازشی عناصر میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔تہور حسین رانا پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے قریبی ساتھی ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی معاونت کی، جو پہلے ہی امریکی عدالت سے دہشت گرد گروہوں کی حمایت پر 35 سال کی سزا پا چکا ہے۔ رانا پر الزام ہے کہ وہ حملوں کی منصوبہ بندی میں نہ صرف شامل تھے بلکہ انہوں نے مالی اور لاجسٹک مدد بھی فراہم کی۔یاد رہے کہ نومبر 2008 میں ممبئی شہر پر کیے گئے دہشت گرد حملے میں 170 کے قریب افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری لشکرِ طیبہ نامی تنظیم پر عائد کی گئی تھی۔تہور رانا ماضی میں فوجی ڈاکٹر رہ چکے ہیں اور 1997 میں کینیڈا منتقل ہونے کے بعد امریکہ چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے شکاگو میں کاروبار شروع کیا۔ انہیں 2009 میں امریکی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ 2013 میں ایک امریکی عدالت نے انہیں ممبئی حملوں سے متعلق سازش سے بری کر دیا تھا، تاہم ڈنمارک میں کارٹون تنازع کے بعد جیلینڈز پوسٹن اخبار پر حملے کی سازش میں ملوث پائے جانے پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

رواں سال امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی امریکہ میں قیام کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ان کی بھارت منتقلی کی راہ ہموار ہوئی۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی تہور رانا کی حوالگی کی حمایت کی تھی اور انہیں “دنیا کے خطرناک ترین افراد میں سے ایک” قرار دیا تھا۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “بالآخر طویل انتظار ختم ہوا اور اب انصاف ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…