بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

امریکا نے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزم پاکستانی نژاد تہور رانا کو بھارت کے حوالے کردیا

datetime 11  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں میں مبینہ طور پر ملوث پاکستانی نژاد کینیڈین شہری تہور حسین رانا کو امریکہ سے بھارت منتقل کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ جمعرات کے روز سخت سیکیورٹی کے حصار میں نئی دہلی کے قریب ایک فوجی ایئر بیس پر پہنچے۔بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے مطابق، تہور رانا کی حوالگی ایک طویل قانونی عمل اور بین الاقوامی تعاون کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد حملے میں ملوث اہم کرداروں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔

این آئی اے نے اسے ’ممبئی حملے کے مرکزی سازشی عناصر میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔تہور حسین رانا پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے قریبی ساتھی ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی معاونت کی، جو پہلے ہی امریکی عدالت سے دہشت گرد گروہوں کی حمایت پر 35 سال کی سزا پا چکا ہے۔ رانا پر الزام ہے کہ وہ حملوں کی منصوبہ بندی میں نہ صرف شامل تھے بلکہ انہوں نے مالی اور لاجسٹک مدد بھی فراہم کی۔یاد رہے کہ نومبر 2008 میں ممبئی شہر پر کیے گئے دہشت گرد حملے میں 170 کے قریب افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری لشکرِ طیبہ نامی تنظیم پر عائد کی گئی تھی۔تہور رانا ماضی میں فوجی ڈاکٹر رہ چکے ہیں اور 1997 میں کینیڈا منتقل ہونے کے بعد امریکہ چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے شکاگو میں کاروبار شروع کیا۔ انہیں 2009 میں امریکی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ 2013 میں ایک امریکی عدالت نے انہیں ممبئی حملوں سے متعلق سازش سے بری کر دیا تھا، تاہم ڈنمارک میں کارٹون تنازع کے بعد جیلینڈز پوسٹن اخبار پر حملے کی سازش میں ملوث پائے جانے پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

رواں سال امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی امریکہ میں قیام کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ان کی بھارت منتقلی کی راہ ہموار ہوئی۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی تہور رانا کی حوالگی کی حمایت کی تھی اور انہیں “دنیا کے خطرناک ترین افراد میں سے ایک” قرار دیا تھا۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “بالآخر طویل انتظار ختم ہوا اور اب انصاف ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔”



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…