اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

روس اور ایران میں 20 سالہ معاہدہ طے پاگیا

datetime 9  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) روس کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے ایران کے ساتھ سیاسی، عسکری اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے لیے ایک 20 سالہ جامع معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی توثیق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور مغربی دنیا کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ روس یوکرین پر حملے کے باوجود امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران ماسکو اور تہران کے درمیان دفاعی تعاون میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔

مغربی ممالک اور یوکرین کا الزام ہے کہ ایران روس کو “شاہد” نامی خودکش ڈرونز سمیت دیگر عسکری سازوسامان فراہم کر رہا ہے، جو یوکرینی جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اس نئے معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ مشترکہ سکیورٹی خدشات کا مل کر سامنا کریں گے، تاہم یہ معاہدہ دفاعی اتحاد کی نوعیت نہیں رکھتا، جیسا کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان ہوا تھا۔

روسی نائب وزیر خارجہ آندرے رودینکو نے اس معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے وضاحت کی کہ اس کا مقصد باقاعدہ عسکری اتحاد بنانا نہیں ہے، بلکہ یہ باہمی تعاون کی ایک دستاویز ہے۔ معاہدے میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ اگر کسی ایک فریق پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرا فریق حملہ آور کی مدد نہیں کرے گا۔

یہ طویل المدتی شراکت داری پر مبنی معاہدہ جنوری میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے نفاذ کے لیے روسی پارلیمنٹ کی منظوری درکار تھی۔ صدر پیوٹن نے اس معاہدے کو “انقلابی قدم” قرار دیا، جبکہ صدر پزیشکیان نے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک “نئے دور” کا آغاز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…