جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایک دن میں بھارتی فضائیہ کے دو طیارے گر کر تباہ

datetime 8  مارچ‬‮  2025 |

نئی دہلی (این این آئی )بھارتی فضائیہ کے ایک ہی دن میں دو طیارے گر کر تباہ ہوگئے، جن میں سے ایک لڑاکا طیارہ تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ نے کہاکہ جیگوار لڑاکا طیارہ تربیتی مشق کے لیے امبالا ایئر بیس سے اڑا اور کچھ دیر بعد ہریانہ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔فضائیہ کا کہنا تھا کہ پائلٹ نے طیارے کو آبادی سے دور لے جا کر بحفاظت نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔ حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی گئی ہے اور پائلٹ کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔

دوسرا واقعہ مغربی بنگال میں پیش آیا جہاں بھارتی فضائیہ کا ٹرانسپورٹ طیارہ اے این 32 بگڈوگرا ایئرپورٹ پر حادثے کا شکار ہوا۔رپورٹس کے مطابق اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور عملہ محفوظ رہا۔نومبر 2024 میں بھی ایک MiG-29 لڑاکا طیارہ آگرہ، اتر پردیش کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا۔ حالیہ دفاعی رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کی جنگی جہازوں کی تعداد 42 سے کم ہو کر محض 30 تک محدود ہوچکی ہے۔ 2025-26 تک بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کی تعداد 28 تک گر سکتی ہے، جو ممکنہ خطرات کے موثر دفاع کے لیے درکار 42 اسکواڈرنز سے بہت کم ہے۔دفاعی ماہرین کا کہناتھا کہ یہ حادثات بھارتی فضائیہ کی آپریشنل تیاریوں اور حفاظتی معیار پر سنگین سوالات ہیں۔مودی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کا دفاعی نظام کھوکھلا ہو چکا ہے۔

بھارتی فضائیہ کے زنگ آلود جنگی جہاز مودی سرکار کی ناکامی کا شرمناک ثبوت ہیں۔ماہرین کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں اور کرپشن کے سبب بھارتی فضائیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زوال پذیر ہو رہی ہے۔ مودی حکومت کے دفاعی بہتری کے وعدے صرف زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں۔ ان مسلسل حادثات کے باوجود مودی سرکار کی جانب سے اصلاحات اور جدید کاری کے بلند و بالا دعوے صرف ایک فریب ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…