اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی وزارت دفاع نے فوج سے متعلق سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کے بارے میں نوٹس جاری کرنے کا اختیار اب فوج کے سپرد کردیا۔اس مقصد کیلئے وزارت دفاع نے ایک اعلیٰ فوجی افسر، ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل اسٹریٹجک کمیونیکیشن کو ”نوڈل آفیسر” کے طور پر مقرر کر دیاہے۔یہ افسر آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 79(3)(b) کے تحت بھارتی فوج سے متعلق غیر قانونی مواد کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہٹانے کی درخواستوں سمیت نوٹس بھیج سکتا ہے۔

وزارت دفاع کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس نوٹیفکیشن سے پہلے، بھارتی فوج غیر قانونی مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کیلئے الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت پر انحصار کرتی تھی۔اس نوٹیفکیشن کے ساتھ، اے ڈی جی (اسٹریٹجک کمیونیکیشن) اب کیسز کی شناخت کر سکتے ہیں اور بھارتی فوج سے متعلق غیر قانونی مواد کے بارے میں میڈیا پلیٹ فارمز کو براہ راست نوٹس بھیج سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس کے بعد یہ ثالثوں پر منحصر ہوگا کہ وہ اس مواد کو کیسے ہینڈل کریں اس طرح کے مواد کے اثرات فوری ہوتے ہیں، اور الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کے استعمال میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

فروری میں، وزارت اطلاعات و نشریات نے بھارتی فوج کے خلاف الزامات کے بارے میں دی کاروان کی ایک خبر کو ہٹانے کا حکم دیا۔یہ سیکشن مختلف وزارتوں، محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آئی ٹی ایکٹ کے دیگر سیکشنز کے مقابلے میں کم حد کے ساتھ ٹیک ڈاؤن نوٹس جاری کرنے کا وسیع تر اختیار فراہم کرتا ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی فوج کو جب اپنا امیج خطرے میں نظر آتا ہے تو وہ قانون سازی کرتے ہیں، یہ تمام حقائق مغربی ممالک کیلئے بھی مثال ہیں جو بھارت کو جمہوریت کا چیمپئن قرار دیتے ہیں کہ وہاں پر بھی فوج کو تحفظ دینے کیلئے قدغن لگائی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…