منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیلی ڈاکٹروں کا بچے کا دھڑ سے الگ ہونے والے سر کو جوڑنے کا دعوی

datetime 15  جولائی  2023 |

تل ابیب (این این آئی)اسرائیلی نیورو ٹراما سرجنز نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے انتہائی خطرناک حادثے کے شکار ہونے والے بچے کا سر اس کے دھڑ سے جوڑ دیا اور اب بچہ صحت مند ہے، جسے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق یروشلم کے نواحی علاقے کے ایک ٹراما سینٹر کے ماہرین نے بتایا کہ 12 سالہ بچے کا سر اس وقت دھڑ سے تقریبا الگ ہوگیا تھا جب وہ سائیکل چلانے کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔حادثے کے دوران خطرناک طریقے سے چوٹ لگنے کے بعد بچے کی ریڑھ کی ہڈی کو کھوپڑی سے ملانے والی لائن ٹوٹ گئی اور بچے کا سر دھڑ سے الگ ہوگیا لیکن وہ کھال اور نسوں کی وجہ سے دھڑ سے ملا ہوا تھا۔بچے کو انتہائی تشویش ناک حالت میں ٹراما سینٹر لایا گیا، جہاں ماہرین نے کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد بچے کا سر اس کے دھڑ سے جوڑ دیا اور ایک ماہ تک اسے زیر علاج رکھا۔

اخبار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا بچہ 12 سالہ بچہ سلیمان حسن یروشلم کے مغربی کنارے میں فلسطین کی حدود کا رہائشی ہے اور اس کا آپریشن گزشتہ ماہ جون کے آغاز میں کیا گیا تھا اور ڈاکٹرز نے بات کو ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک خفیہ رکھا۔ڈاکٹروں نے کامیاب سرجری کے بعد انتہائی سخت نگرانی میں بچے کا علاج کیا اور ایک ماہ بعد اب اسے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی، جس کے بعد ماہرین نے بچے سے متعلق یہ انکشاف کیا۔بچے کی سرجری کرنے والے ڈاکٹرز نے بتایا کہ حیران کن طور پر بچے کو کسی طرح کی کوئی اعصابی، دماغی اور دیگر جسمانی معزوری یا بیماری بھی نہیں ہوئی اور وہ ایک ماہ کے اندر کسی بھی سہارے کے بغیر آرام سے چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کی خطرناک چوٹیں انتہائی کم لگتی ہیں لیکن جب کوئی ایسے حادثات کا شکار ہوتا ہے، اس کے زندہ بچنے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں اور زیادہ تر کیسز میں متاثرہ لوگ جائے وقوع پر ہی ہلاک ہوجاتے ہیں۔بچے کی سرجری کرنے والے ڈاکٹرز میں شامل ایک نیورو ٹراما سرجن ایک سال قبل ہی کینیڈا سے فیلوشپ مکمل کرکے اسرائیل پہنچا تھا اور وہ وہاں کے چند بہترین سرجنز میں سے ایک ہے۔ڈاکٹرز اور بچے کے والدین سمیت زیادہ تر افراد نے مذکورہ واقعے کو ایک معجزہ قرار دیا اور لوگ اس پر حیران رہ گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…