منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آئندہ سال مارچ تک سعودیہ اور اسرائیل کا ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا عندیہ

datetime 28  جون‬‮  2023 |

ریاض /مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی) سعودی عرب اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اورایک دوسرے کو آئندہ سال مارچ تک تسلیم کرلینے کا عندیہ دیا ہے،امریکہ عالمی سفارتکاری کی ھزیمتوں کے بعد بڑی کامیابی حاصل کرنے کا خواہاں ہے،سعودی عرب کا امریکہ سے نیٹو جیسے تحفظ کا تقاضا کیا ہے جس میں نیٹو کے ایک ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ شمار ہو گا۔

سعودی عرب اوراسرائیل نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے کااعلان کیاہے اس طرح دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو آئندہ سال مارچ تک تسلیم کرلینے کا عندیہ دیدیا ہے اسرائیلی وزیرخارجہ ایگی کوہن نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس امرکااعلان کیاہے اور بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی چینلز سے بات جاری ہے ان میں واشنگٹن کو اولیت حاصل ہے

تل ابیب کے لئے مارچ 2024ء تک ریاض کے ساتھ تعلقات کے امکان کی کھڑکی کھل گئی ہے جس کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن فاتحانہ اپنے نئے انتخاب کی مہم میں مصروف ہو جائیں گے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا تو پاکستان مثبت طورپر اس معاملے کا جائزہ لے گا۔ اسرائیلی وزیرخارجہ نے یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام میں دلچسپی رکھتاہے اسرائیل میں امریکی کے سابق سفیر مارٹن انڈکرنے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ مراسم کو معمول پر لانے کے لئے گراں قیمت مطالبات پیش کئے ہیں ایک امریکہ اسرائیل کو سلامتی کیلئے وہی حمایت دے جو اس نے نیٹو کے رکن ممالک کو اس کی دفعہ پانچ کے تحت دے رکھی ہے اس کی رو سے نیٹو کے کسی رکن ملک پرحملہ، امریکہ پر حملہ تصور ہوگا۔

امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کو آزادانہ ہتھیاروں کی فراہمی ہو گی جن میں جدید ترین ایف۔35لڑاکا طیاروں کی فراہمی بہم رسانی بھی شامل ہے سعودی عرب نے اپنے پرامن جوہری پروگرام کے لئے یورنیم میں افزودگی کی اجازت کو بھی مطالبات میں درج کردیا ہے سعودی عرب تاحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اورنہ ہی اس نے ابراہم معاہدے میں شمولیت اختیار کی ہے جس کی روشنی میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل سے تعلقات 2020میں استوار ہوئے تھے۔

سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرمان نے جون کے اوائل میں رائے ظاہر کی تھی کہ سعودی عرب اوراسرائیل کے مابین تعلقات کا معمول پر آنا خطے کے مفاد میں ہے تاہم اس کے لئے تنازع فلسطین کا حل ہونا اشد ضروری ہے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقا ت کو معمول پر لانے کی اپنی خواہش کا زور دیکر ذکر کیاہے اورکہا ہے کہ اسرائیل اور عرب دنیاکے درمیان جامع امن کے لئے بہت بڑی جست ہوگی جس سے عرب، اسرائیل اور فلسطین، اسرائیل کے تصادم کو ختم کیا جاسکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…