منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی کوسٹ گارڈز نے بھی ٹائٹن آبدوز کی تباہی کی تحقیقات شروع کردیں

datetime 26  جون‬‮  2023 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی کوسٹ گارڈ نے ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے جانے والی چھوٹی آبدوز ٹائٹن کے پانی کے اندر پھٹنے کی وجہ کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس کے نتیجے میں دو پاکستانیوں سمیت اس میں سوار پانچوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق جہاز پر اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین شہزادہ داد اور ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی مہم جو ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی آبدوز کے ماہر پال ہنری نارجیولٹ اور اوشین گیٹ ایکسپیڈیشنز کے امریکی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹاکٹن رش سوار تھے جنہوں نے ٹائٹینک کا سفر کرنے کے لیے آبدوز دی اور فی کس ڈھائی لاکھ ڈالر وصول کیے۔کوسٹ گارڈز نے کہا کہ اس نے ایک میرین بورڈ آف انویسٹی گیشن (ایم بی آئی)تشکیل دیا ہے، جو اس کارروائی اور بالآخر شمالی بحر اوقیانوس میں ہونے والے سانحے کی اعلی سطح کی تحقیقات کرے گا جس نے دنیا بھر کی توجہ مبذول کرلی تھی۔کوسٹ گارڈ کے چیف تفتیش کار اور تحقیقات کے سربراہ جیسن نیوبار نے بوسٹن میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میرا بنیادی مقصد دنیا بھر میں میری ٹائم ڈومین کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے ضروری سفارشات دے کر ایسے واقعات کو روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم بی آئی ابتدائی شواہد جمع کرنے کے پہلے مرحلے میں ہے، جس میں جائے وقوع سے ملبہ ہٹانے کا آپریشن بھی شامل ہے۔جیسن نیوبار نے کہا کہ امریکی تحقیقات ضرورت کے مطابق شہری یا فوجداری پابندیوں کی ممکنہ پیروی کے بارے میں سفارشات بھی پیش کر سکتی ہیں۔ٹائٹن کے لاپتا ہونے کی اطلاع گزشتہ اتوار کو دی گئی تھی اور کوسٹ گارڈ نے جمعرات کو کہا تھا کہ آبدوز میں سوار تمام پانچ افراد تباہ کن دھماکے کے بعد ہلاک ہو گئے۔ٹائٹینک کی کمان سے 500 میٹر کے فاصلے پر سمندری فرش پر آبدوز کا ملبہ پایا گیا تھا جو سمندر کی سطح سے تقریبا چار کلومیٹر نیچے اور نیو فانڈ لینڈ، کینیڈا کے ساحل سے 400 میل دور ہے۔

کینیڈا کے قومی بحری جہاز پولر پرنس کارگو جہاز نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ٹائٹن کو سمندر میں دھکیلا تھا لیکن آبدوز کو سمندر کی گہرائیوں میں اتارے جانے کے تقریبا ایک گھنٹہ 45 منٹ بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔دھماکے کے اعلان کے بعد کثیر القومی تلاش اور بچا آپریشن ختم کردیا تھا جس نے سیاحتی دستہ کے لاپتا ہونے کے بعد سے دنیا کی توجہ حاصل کر رکھی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…