بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا کی طرف سے ہندو انتہا پسند تنظیموں کو فنڈز فراہم کرنے کا انکشاف

datetime 20  مئی‬‮  2023 |

نئی دہلی / واشنگٹن ( آن لائن ) امریکا ہندو فرقہ پرست تنظیموں کو بھی فنڈنگ کرتا ہے۔بھارتی اور امریکی ماہرین کی رپورٹ نے ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے لیے امریکا سے ہونے والی خفیہ فنڈنگ کا پول کھول دیا۔

’’فارن ایکسچینج آف ہیٹ‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں آر ایس ایس کی خفیہ فنڈنگ کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر امریکا سے ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس اور اس کے مختلف شدت پسند گروپوں کو کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق کئی طرح کی امدادی تنظیموں اور خیراتی اداروں کی آڑ میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے لیے فنڈنگ کی گئی ہے۔

یہ فنڈنگ مبینہ طور پر امریکی ریاست میری لینڈ میں موجود انڈیا ڈیولپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ کے ذریعے کی گئی ہے۔علاوہ ازیں ’’دی کمپین ٹو اسٹاپ فنڈنگ ہیٹ‘‘ ( سی ایس ایف ایچ ) کی رپورٹ کے مطابق سَنگھ پریوار کو 2002 ء میں 30 لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کی گئی۔ آر ایس ایس کے علاوہ مسلم دشمن ہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کو بھی لاکھوں ڈالر کی فنڈنگ کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ سیوا انٹرنیشنل اور انفینٹی گروپ کو بھی مبینہ طور پر لاکھوں ڈالر کی فنڈنگ کی گئی جو کہ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے لیے کام کرتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندو امریکی فاؤنڈیشن کے میہر میگھانی کو بھی مبینہ طور پر لاکھوں ڈالر دیے گئے۔ساؤتھ ایشین سٹیزن ویب رپورٹ کے مطابق 2001 ء سے 2014 ء تک خیرات کی آڑ میں آر ایس ایس کو مختلف اکاؤنٹس میں 3 کروڑ ڈالر سے زائد رقم بھیجی گئی۔

واضح رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کی آشیرباد سے خصوصاً مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر زمین تنگ کرنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس اپنے ارکان کو دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت دیتی ہے۔علاوہ ازیں کئی تحقیقاتی رپورٹس میں آر ایس ایس اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا انتہا پسند کارروائیوں میں براہ راست تعلق بھی ثابت ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…