بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

نیویارک میں برطانوی شہزادہ ہیری اوران کی اہلیہ میگھن کاخوف ناک کارتعاقب

datetime 18  مئی‬‮  2023 |

نیویارک(این این آئی)برطانوی شہزادے ہیری، ان کی اہلیہ میگھن میرکل اور ان کی والدہ کی کارکا خوف ناک طریقے سے تعاقب کیا گیا ہے۔اس واقعہ میں پاپارازی فوٹوگرافر ملوث بتائے گئے ہیں جو دوگھنٹے تک شہزادہ ہیری کی کارکا پیچھا کرتے رہے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ واقعہ نیویارک میں پیش آیا ہے جہاں اس جوڑے نے مس فانڈیشن برائے خواتین کے زیراہتمام منعقدہ اعزازات تقسیم کرنے کی تقریب میں شرکت کی تھی۔

اس میں میگھن کو ان کے کام پراعزاز سے نوازا گیا تھا۔سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی تصاویر میں ہیری، میگھن اور ان کی والدہ ڈوریا راگلینڈ کو ایک ٹیکسی میں بیٹھے دکھایا گیا ہے۔شہزادہ ہیری کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ رات ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس اورمس راگ لینڈ کی گاڑی کاانتہائی جارحانہ انداز میں پاپارازیوں نے تعاقب کیا تھا۔پاپارازی فوٹوگرافروں نے ان کی گاڑی کا مسلسل دو گھنٹے تک تعاقب جاری رکھا تھا۔اس کے دوران میں سڑک پر سفرکرنے والے دیگرڈرائیوروں، پیدل چلنے والوں اور نیویارک کے محکمہ پولیس (نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ)کے دو افسروں کی گاڑیوں کے درمیان متعدد مرتبہ تصادم ہوتے ہوتے بچا تھا۔شہزادہ ہیری اور میگھن 2020 میں اپنے شاہی کردار سے دستبردار ہوگئے تھے اورمیڈیا کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی وجہ سے امریکا منتقل ہو گئے تھے۔شہزادہ ہیری طویل عرصے سے پریس کی اپنے ذاتی امورمیں مداخلت کے بارے میں غم وغصے کااظہارکررہے ہیں۔وہ اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی موت کا ذمہ دار بھی پریس ہی کوقرار دیتے ہیں۔پیرس میں پاپارازی فوٹوگرافروں نیان کی لیموزین کارکا پیچھا کیا تھااور اس دوران میں وہ ایک پل پرسے گرکرتباہ ہو گئی تھی۔اس حادثے میں شہزادی ڈیانا اوران کے ارب پتی دوست ڈوڈی الفاید کی موت واقع ہوگئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…