جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بند بینک، جیبیں خالی، قیمتیں آسمان پر، سوڈان میں شہریوں کے لیے مشکلات کے انبار

datetime 30  اپریل‬‮  2023 |

خرطوم (این این آئی)سوڈان میں فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان دو ہفتوں سے جاری جھڑپوں کے بعد خرطوم اور سوڈان کی دیگر ریاستوں میں بینک اور اے ٹی ایم مشینیں بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عوام خالی ہاتھ ہیں اور روزمرہ ضروریات زندگی خریدنا دشوار ہوچکا ہے۔خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر لڑائی طویل ہوگئی تو یہ بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اس بارے میں بات کرتے ہوئے سوڈانی اخبارنے کہا کہ لوگوں کو آنے والے ہفتوں میں ایک حقیقی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے۔بینک 15 اپریل سے بند ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جن کے پاس بچت ہے وہ بھی اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔اس کے علاوہ، غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے جو ملازم اپنی یومیہ اجرت حاصل کرتے ہیں، لڑائی شروع ہونے کے بعد سے کوئی رقم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔جن لوگوں کے پاس غیر ملکی کرنسی خصوصا ڈالر ہے انہیں اس کے عوض بہت کم مقامی کرنسی حاصل ہو رہی ہے۔واقعات سے پہلے، بلیک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 610 سوڈانی پانڈ تھی، اور دو دن پہلے میں نے ڈالر کو 580 پانڈ میں تبدیل کروایا ہے۔اس وقت جب کہ شہری رقم کی کمی کا شکار ہیں، اشیا کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 500 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔اس صورتحال میں بہت سے شہری لین دین میں نقدی کے بجائے الیکٹرانک ایپلی کیشنز کا سہارا لے رہے ہیں۔تاہم انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ان ایپلی کیشنز کے استعمال پر شہریوں کو تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔15 اپریل سے سوڈان کے دارالحکومت اور کئی شہروں میں عبدالفتاح البرہان کی زیر قیادت فوج اور محمد حمدان دقلو کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…