جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے مُودی سرکار کی چالاکی کا کرارا جوا ب دے دیا

datetime 5  اپریل‬‮  2023 |

بیجنگ (این این آئی)بھارتی ریاست ارونا چل پردیش کو چین میں ضم کرنے کی تیاریاں،11مقامات کے نام تبدیل کردئیے گئے۔ بھارت کو ایک اور جھٹکا ، مودی کو دنیابھر میں رسوائی کا سامنا ، چین نے اروناچل پردیش کے 11مقامات کے نام بدل دیئے جسے اروناچل پردیش کے چین کے ساتھ مکمل انضمام کی طرف ایک اوراہم قدم کے طورپر دیکھا جارہا ہے

چینی وزارت برائے شہری امور نے ایک بیان میں اروناچل پردیش کے حوالے سے جسے بھارت اپنی ریاست ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کہاکہ جنوبی تبت میں بعض علاقوں کے جغرافیائی ناموں کو تبدیل کیاجارہا ہے ،اس اقدام سے بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔سرکاری ٹیبلوائڈ گلوبل ٹائمز نے سرکاری نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ چینی وزارت کی طرف سے اتوار کو اروناچل پردیش میں 11 مقامات کے سرکاری نام جاری کیے گئے، جن میں دو زمینی علاقے، دو رہائشی علاقے، پانچ پہاڑی چوٹیاں اور دو دریابھی شامل ہیں۔ چین نے ایک نقشہ بھی جاری کیا جس میں جنوبی تبت کے علاقے میں اروناچل پردیش کے بعض حصے دکھائے گئے تھے، جسے زنگنان کہا جاتا ہے۔ اس میں ریاستی دارالحکومت ایٹا نگر کے قریب واقع ایک قصبہ بھی شامل ہے۔گلوبل ٹائمز، جو حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان پیپلز ڈیلی گروپ آف پبلیکیشنز کا حصہ ہے کہ مطابقPinyinجو لوگوں کو ان جگہوں کے ناموں کو زیادہ آسانی سے اور درست طریقے سے یاد رکھنے اور شناخت کرنے میں مدد کرے گا۔اس پیش رفت پر فوری طورپر بھارت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماضی میں بھارت یہ دعوی کرتا رہا ہے کہ “اروناچل پردیش ہمیشہ سے بھارت کا اٹوٹ حصہ رہا ہے، اور رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…