بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان سے فوجی انخلا ء کے خلاف تھا،سابق امریکی کمانڈر

datetime 29  اگست‬‮  2022 |

کابل(این این آئی)امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر کینتھ میکنزی نے کہا ہے کہ میں نے صدر جو بائیڈن کو مشورہ دیا تھا کہ وہ گذشتہ موسم گرما میں افغانستان سے تمام امریکی افواج کو نہ نکالیں۔میک کینزی نے امریکی ٹی وی کو بتایا کہ پینٹاگان نے وائٹ ہائوس پر واضح کر دیا تھا کہ

مکمل انخلا تقریبا یقینی طور پر طالبان کے فوری قبضے کا باعث بنے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بہترین آپشن یہ ہوتا کہ طالبان کو دور رکھا جائے اور اگر بائیڈن نے وہاں فوجیوں کا ایک چھوٹا دستہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہوتا تو امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت ہی اقتدار میں رہتی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم نے اپنی فوجیں ہٹا لیں تو کابل کا سقوط ہوجائے گا۔ سوال یہ تھا کہ کابل کا سقوط کب ہوگا۔ یہ افغانستان میں سینٹرل کمانڈ اور ہمارے ماتحتوں کا مستقل موقف تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے تجزیوں نے کمانڈ کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ صدر نے ان سے بات کی ہے۔ لیکن صدر کو بہت وسیع تر غور و فکر کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔کابل میں القاعدہ کے رہ نما ایمن الظواہری کی ڈرون سے ہلاکت کے بعد یہ سوالات اٹھائے گئے کہ کیا طالبان ایک بار پھر القاعدہ کو افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے دیں گے۔اس امکان پرمیک کینزی نے مشورہ دیا کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان یہ تعاون امریکی افواج کو افغانستان واپس جانے پر مجبور کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ امریکا کے طویل مدتی مفاد میں ہے کہ وہ افغانستان میں پرتشدد انتہا پسندی کے مراکز کو بڑھنے اور پھیلنے نہ دے۔ میرے خیال میں طالبان کی موجودہ حکومت کے تحت شاید ایسا ہی ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…