جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اقوام متحدہ سے یوکرین میں خواتین کے خلاف کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

datetime 13  اپریل‬‮  2022 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ میں ذمے داران نے زور دیا ہے کہ یوکرین میں روس کی جنگ کے دوران میں ان پر تشدد کارروائیوں کی تحقیق کی جائے جن میں خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اس تنازع میں بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ مطالبہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں سامنے آیا۔ یہ اجلاس امریکا اور البانیا کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

خواتین سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بحوث نے اس موقع پر کہا کہ اس جنگ کو اب رک جانا چاہیے۔ادھر اقوام متحدہ کی بچوں سے متعلق تنظیم یونیسف میں ہنگامی پروگرام کے ڈائریکٹر مانوئل فونٹین کا کہنا تھا کہ اب اس جنگ کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے ، یوکرین کے بچے مزید انتظار نہیں کر سکتے۔سیما بحوث کے مطابق یوکرین میں آبرو ریزی اور جنسی تشدد کی کارروائیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سننے میں آ رہا ہے۔ ان دعوں کی آزادانہ تحقیق ہونی چاہیے تا کہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔مانوئل فونٹین یوکرین کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین میں قحط پڑنے کا خطرہ ہے۔ فونٹین کے مطابق یوکرین میں اس وقت 32 لاکھ بچے اپنے گھروں میں ہیں جن میں سے نصف کے قریب بچوں کو مطلوبہ خوراک نہ ملنے کا خطرہ درپیش ہے۔اجلاس سے قبل اقوام متحدہ میں ناروے کی خاتون سفیر مونا یول نے یوکرین میں جاری جنگ کے ملک میں بچوں کی تعلیم پر اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں اسکولوں کی بندش سے 57 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ ناروے کی سفیر نے روس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچے بے قصور ہیں۔ ان کو ہلاک کرنے سے رکا جائے۔ ان کے مستقبل کو تباہ کرنے سے رکا جائے ، جنگ کو روک دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…