فلسطینی باشندوں کی جبری بے دخلی ناقابل قبول ہے، سعودی عرب بھی کھل کر بول پڑا

  جمعرات‬‮ 13 مئی‬‮‬‮ 2021  |  0:59

ریاض (این این آئی)سعودی عرب نے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینی باشندوں کی اسرائیلی ریاست کی جانب سے جبری بے داخلی کی شدید مذمت کی ہے۔اسلامی تعاون تنظیم میں سعودی عرب کے مندوب ڈاکٹر صالح بن حمد السحیباتی نے کہا ہے کہ ان کا ملک بیت المقدس سے فلسطینی باشندوں کو طاقت کے ذریعے بے دخل کرنے کیاسرائیلی منصوبہ بندی کویکسر مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کرنا اور ان کے گھروں کی مسماری بین الاقوامی قوانین اور عالمی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے


کہا کہ سعودی عرب فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے گا اور مشرقی بیت المقدس کو آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی کوششوں میں فلسطینیوں کی حمایت کرے گا۔ڈاکٹر السحیباتی نے کہا کہ قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصی کی حرمت پامال کرنے اور نمازیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سلسلے میں حالیہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس منظم غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی لپیٹ میں بچوں سمیت سیکڑوں فلسطینی آئے۔جاری بیان میں سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل کو اس جارحیت کا ذمے دار ٹھہرایا جائے۔ مملکت کے مطابق اسرائیلی کارستانیوں کو فوری طور پر روکے جانے کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی منشوروں کے مخالف ہیں۔بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ مملکت اس موقع پر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور مسئلہ فلسطین کے ایک منصفانہ اور جامع حل کے لیے موجودہ کوششوں کو سپورٹ کرتی ہے۔ مملکت اس بات کی خواہاں ہے کہ فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی قرار دادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق 1967ء کی سرحدوں پر ایک خود مختار ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎