اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری میں شدت، شہدا کی تعداد 36 تک پہنچ گئی ہسپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے

  بدھ‬‮ 12 مئی‬‮‬‮ 2021  |  12:46

غزہ (این این آئی) غزہ میں قیامت صغریٰ، صیہونی فورسز کی وقفے وقفے سے وحشیانہ بمباری سے شہدا کی تعداد 36 تک پہنچ گئی، جس میں 13 بچے بھی شامل ہیں جبکہ دو روز کے دوران 700 سے زائد زخمی ہوگئے۔ایک دن میں سفاک اسرائیل کے اسی جنگی طیاروں نے غزہ پر بم برسائے، بارہ منزلہ رہائشی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ہسپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے،عورتوں بچوں سمیت کئی فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ پر حملوں میں اضافے کا حکم دے دیا۔وحشیانہ بمباری میں فلسطینیوں کے


گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ عورتیں اور بچے پناہ کی تلاش میں غزہ کی گلیوں میں دوڑتے رہے۔ شہدا کی تدفین کے دوران غمناک مناظر سامنے آئے، معصوم بچہ اپنوں کی جدائی برداشت نہ کرسکا، بھاگ کر بھائی اور والد کے جنازے کے پاس جا پہنچا، بچے کی بے بسی نے دیکھنے والوں کو رلا دیا۔ 11 سالہ بچے کے جنازے نے بھی کہرام مچا دیا۔فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیلی مظالم کا بھرپور جواب دیا۔ اسرائیلی علاقوں پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ ایک دن میں 300 سے زائد راکٹ اسرائیلی شہروں پر برسائے، حماس کے راکٹ حملوں سے یہودیوں میں افراتفری پھیل گئی۔اسرائیل کے شہر اشکیلون میں فلسطینیوں کے میزائل حملے میں یہودی آبادکار ہلاک ہوگئے جبکہ کئی زخمی ہیں۔ تل ابیب میں بھی اسرائیلی عمار ت پر فلسطینی میزائل لگا، اسرائیل نے تل ابیب ایئر پورٹ کو بند کر دیا۔شہر لْد میں اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی کو گولی مارکر شہید کر دیا۔ جس کے بعد ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیلی پولیس کی گاڑی جلا دی۔ شہر میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑ ڈالے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں اسرائیل کا فلسطینیوں پر تشدد جاری ہے۔ دو روز میں زخمیوں کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے تجاوز کرگئی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی جانب سے رہائشی علاقوں پر حملے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے غیر قانونی طاقت کا استعمال فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ نے غزہ پراسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎