جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں کرونا اتنی تیزی سے کیوں پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

datetime 28  اپریل‬‮  2021 |

نیویارک ٗد ہلی(این این آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کی تین اقسام تیزی سے وائرس پھیلانے کا سبب ہوسکتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں کہاکہ بھارت میں کورونا مریض ہسپتالوں کا رخ کررہے ہیں جو مسئلے کا سبب بن رہا ہے جبکہ کورونا مریضوں کی گھر میں رہتے ہوئے بھی دیکھ بھال کی جاسکتی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق

بھارت میں کورونا مریضوں کیلئے چار ہزار آکسیجن کنسنٹریٹرز بھجوانے کیلئے کام کررہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کی تین اقسام تیزی سے وائرس پھیلانے کا سبب ہوسکتی ہیں تاہم بھارت میں حالیہ بڑے اجتماعات سمیت دیگر عوامل نے بھی کورونا وبا پھیلانے میں کردار اداکیا ہے۔دوسری جانب  دہلی کی ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کی درخواست پر شہرکا لگژری ہوٹل ججوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے کوویڈ سینٹر میں تبدیل کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی حکومت کے بیان میں کہا گیا ہیکہ دہلی ہائی کورٹ کی درخواست پر لگژری ہوٹل کے 100 کمروں کو کوویڈ سینٹر بنا دیا گیا ہے، شہر کا بڑا ہسپتال لگڑری ہوٹل کیکورونا سینٹر کی نگرانی کریگا۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے ترجمان جیویر شیرگل نے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہناہے کہ حکومتی فیصلہ آئین میں شامل مساوی حقوق کے برخلاف ہے، عدالت خود اس خصوصی برتاؤ کے فیصلے کو مسترد کرے۔دوسری جانب ریاستی حکام اور دہلی ہائی کورٹ رجسٹرار دفترکی جانب سے خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ بھارت میں مسلسل چھٹے روز کورونا وائرس کے تین لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔بھارت میں مسلسل لاکھوں کیسز سامنے آنے سے انتہائی بدترین صورتحال کا سامنا ہے جہاں ہسپتال مکمل بھر چکے ہیں اور مریضوں کیلئے آکسیجن کی قلت ہے اور آکسیجن نہ ملنے سے متعدد اموات ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…