جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ا’’مسلمان نوجوان کا بھارتی شہریوں کی جانیں بچانے کیلئے بڑا اقدام ‘‘ اپنی قیمتی کار ،زیوارت تک بیچ دیے،آکسیجن مین کے نام سے مشہور ہو گیا

datetime 27  اپریل‬‮  2021 |

اترپردیش(این این آئی )بھارت میں مریضوں کو مفت آکسیجن سلنڈرز فراہم کرنے والے مسلمان نوجوان شاہنواز شیخ نے اپنی قیمتی کار اور زیور تک بیچ دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جہاں آج کل مودی سرکار کی ناقص کارکردگی پر کڑی تنقید ہورہی ہے وہیں اتر پردیش کے علاقے اعظم گڑھ کے 31 سالہ مسلم نوجوان کے چرچے ہورہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بھی مریضوں کو مفت آکسیجن

سلنڈرز فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت مدد کو تیار رہنے پر شاہنواز شیخ کو آکسیجن مین کا خطاب دیا ہے۔شاہنواز شیخ کورونا کی ابتدا میں گھر کے قریب غریب بستی میں راشن کی تقسیم کیا کرتے تھے کہ اس دوران ان کی دوست کی حاملہ بہن رکشے میں اسپتال جانے کے دوران آکسیجن کی کمی کے باعث ہلاک ہوگئیں اور اس واقعے نے دونوں دوستوں کی زندگی کا مقصد ہی بدل دیا اور دونوں نے مریضوں کو آکیسجن سلنڈرز کی مفت فراہمی کا بیڑہ اٹھالیا۔شاہنواز شیخ اب تک 4 ہزار سے زائد مریضوں کو آکسیجن سلنڈرز فراہم کرچکے ہیں۔ سلنڈرز کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے انہیں اس کام کے لیے باقاعدہ ایک ٹیم تشکیل دینی پڑی جو 24 گھنٹے دو شفٹوں میں کام کرتی ہے۔ ٹیم کے ارکان کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک سلنڈرز مریضوں تک پہنچاتے اور لاتے ہیں اور دوسری سلنڈرز میں آکسیجن گیس بھرواتی ہے۔شاہنواز شیخ کا کہنا تھا کہ 3 ماہ قبل آکسیجن کے لئے روزانہ 50 کالوں کا جواب دے رہا تھا جب کہ اب 500 سے 600 کال آتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مانگ اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے مجھے اپنی کار 22 لاکھ میں فروخت کرنا پڑی اس سے بھی کام نہ بنا تو سونے کی چین بیچ دی۔ اچھی بات یہ ہے کہ آکسیجن والے مجھ سے فی سلنڈر 300 روپے لیتے ہیں اور باقیوں سے 500 سے 600 لیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…