جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں مسلم نوجوان نے 4 ہزار بھارتیوں کی زندگیاں بچا لیں

datetime 23  اپریل‬‮  2021 |

ممبئی ( آن لائن )بھارت میں شاہنواز شیخ مسلمان نوجوان کورونا وائرس کی خطرناک صورتحال کے دوران مریضوں کو مفت سیجن فراہم کرنے پر آکسیجن مین بن گیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاہنواز شیخ نے مریضوں کو آکسیجن کی مفت سہولت فراہم کرنے کے لیے گزشتہ سال اپنی قیمتی

گاڑی فروخت کر دی تھی جو تقریبا 45 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔شاہنواز شیخ نے آکسیجن کے صرف 60 سلنڈر خریدے تھے جس سے انہوں نے بھارتی مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔اس وقت ان کے پاس 200 سلنڈر موجود ہیں جن کے ذریعے وہ کورونا وائرس کے مریضوں کو مفت آکسیجن کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔اسی بنا پر شہریوں نے انہیں ’آکسیجن مین‘ کہنا شروع کر دیا ہے۔مسلمان نوجوان نے گزشتہ سال تقریبا چار ہزار سے زائد مریضوں کو آکسیجن فراہم کرکے ان کی زندگیاں محفوظ کی تھی۔شاہنواز کے مطابق ان کی بہن بھی آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں۔بہن کی موت کا اس قدر گہرا صدمہ پہنچا کہ میں نے اپنی گاڑی فروخت کرکے یہ کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔خیال رہے کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کی وبا کا قہر جاری ہے اور اس میں کمی کے بجائے دن بہ دن مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت اس وقت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں تقریبا ًتین لاکھ 15 ہزار کورونا سے متاثرین کے نئے کیسز درج کیے گئے۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاہنواز شیخ نے مریضوں کو آکسیجن کی مفت سہولت فراہم کرنے کے لیے گزشتہ سال اپنی قیمتی گاڑی فروخت کر دی تھی جو تقریبا 45 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔شاہنواز شیخ نے آکسیجن کے صرف 60 سلنڈر خریدے تھے جس سے انہوں نے بھارتی مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…