جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی خفیہ اداروں کا افغانستان پر طالبان کے ممکنہ قبضے کا انتباہ

datetime 27  مارچ‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی خفیہ اداروں نے جوبائیڈن حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر امریکی فوجی دستوں کو متحارب فریقین کے مابین اقتدار تقسیم کرنے کے معاہدے کے بغیر واپس بلایا گیا تو 2 سے 3 سال کے عرصے میں طالبان افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز

کی ایک رپورٹ میں نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس قسم کے ٹیک اوور سے افغانستان میں القاعدہ کو دوبارہ منظم ہونے میں مدد ملے گی۔امریکی صدر جو بائیڈن اس بات کا فیصلہ کررہے ہیں کہ کیا ساڑھے 3 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن پر عمل کیا جائے جو ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس فروری میں طالبان کے ساتھ معاہدے میں طے کی تھی۔امریکا اخبار نے لکھا کہ کچھ امریکی عہدیداران جو کہ افغانستان میں امریکی فوجی رکھنے کے حامی ہے وہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کو استعمال کر کے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوجیوں کو ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں موجود ہونا چاہیے۔مذکورہ رپورٹ پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے کسی قسم کے تبصرے سے انکار کیا گیا۔دوسری جانب جو بائیڈن نے بھی وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فوجیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہے جس کے لیے اتحادی افواج کے بھی 7 ہزار فوجیوں کا انخلا درکار ہے۔ساتھ ہی جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ اگلے برس امریکی فوجیوں کی ملک میں موجودگی کا تصور نہیں کرسکتے۔قبل ازیں طالبان نے کہا تھا کہ اگر غیر ملکی افواج ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہیں تو وہ ان کے خلاف حملے دوبارہ شروع کردیں گے جو امریکا

طالبان معاہدے کے بعد روک دیے گئے تھے۔خیال رہے کہ امریکا اور طالبان رہنماؤں کے مابین مذاکرات کے طویل دور کے بعد فروری 2020 میں امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت امریکا نے اپنی افواج کے انخلا جبکہ طالبان نے افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…