جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت طیارے صرف 40 ہزار ڈالر میں فروخت ‘‘

datetime 13  مارچ‬‮  2021 |

کابل (آن لائن)امریکا کی جانب سے افغانستان کے لئے 50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے خریدے گئے طیارے صرف 40 ہزار ڈالر میں فروخت کردیئے گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل آف افغان ری کنسٹرکشن کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کی فوج کے لیے 50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے خریدے گئے

20 میں سے 16 ٹرانسپورٹ طیارے صرف چند سال میں ہی ناکارہ قرار دے کر صرف 40 ہزار ڈالر میں فروخت کر دیے گئے، یہ طیارے افغانستان کے لیے اٹلی سے خریدے گئے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 54 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے دوبارہ استعمال کے قابل بنائے گئے 20 جی 222 طیارے اٹلی سے افغانستان کی مسلح افواج کے لیے خریدے گئے تھے۔ ان میں سے 16 کو صرف چند سال میں ہی اسکریپ یا ناکارہ قرار دے کر 40 ہزار ڈالر میں فروخت کردیا گیا جبکہ چار طیارے اب بھی جرمنی میں ایک امریکی ہوائی اڈے پر کھڑے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے مئی 2020 میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ‘جی 222 ایئرکرافٹ پروگرام’ میں جو ناکامی ہوئی اس میں کسی پر فوجداری یا سول مقدمہ نہیں چلایا جائے گا، اور اب نوٹیفیکشن کے تحت اس معاملے میں کسی کو جواہدہ یا موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جائے گا۔نومبر 2009 سے مارچ 2013 تک سولہ طیارے کابل انٹرنیشل ہوائی اڈے جبکہ چار جرمنی میں ریمسٹین کے فوجی ہوائی اڈے پر پہنچا دیے گئے، جو تاحال وہیں پر موجود ہیں، طیاروں کی مرمت کرنے والے ماہرین نے انکشاف کیا کہ طیاروں میں ایسے نقص اور خرابیاں موجودہ ہیں جو سیکیورٹی خدشات بھی ہیں، جب کہ خریداری کے کنٹریکٹ میں یہ معاہدہ بھی ہوا تھا کہ کمپنی طیاروں کی مکمل دیکھ بھال، مرمت، اضافی پرزہ جات اور ہوا بازوں کی تربیت میں بھی تعاون کریگی، تاہم یہ کنٹریکٹ طیاروں کو 2014 میں اسکریپ کرکے فروخت کر دینے کی وجہ سے ختم کر دیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں درجنوں تعمیراتی منصوبے جن میں اسکول، اسپتال اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانے شامل ہیں سرکاری سطح پر غفلت، استعمال نہ کیے جانے، غیر معیاری تعمیراتی کام یا جنگ کی وجہ سے یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا زبوں حالی کا شکار ہیں۔ انسپکٹر جنرل کی اس رپورٹ کے مطابق امریکا کی مالی امداد سے افغانستان کی تعمیر نو کے منصوبوں میں 2 اعشاریہ 4 ارب ڈالر کے منصوبے تباہ و برباد ہو گئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…