ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

’’کھیل اور پیسہ میری زندگی ہے‘‘ سعودی پرنس کا فرانسیسی کلب خریدنے کا فیصلہ‎

datetime 8  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی عرب کے شہزادے عبداللہ بن مساعد بن عبدالعزیز السعود نے فرانسیسی فٹبال کلب خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔سعودی شہزادے عبداللہ بن مساعد فٹبال کے شوقین ہیں اور پہلے ہی کئی ملکوں میں فٹبال ٹیمیں خرید چکے ہیں۔نجی ٹی وی جیو کی رپورٹ کے مطابق

اس سے قبل وہ انگلش فٹبال لیگ کی ٹیم شیفیلڈ یو نائیٹڈ اور بیلجیم کا بریشوٹ کلب بھی خرید چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی شہزادے نے بھارت کا کیرالا یونائیٹڈ کلب بھی خرید رکھا ہے۔ اب سعودی شہزادے نے فرانسیسی فٹبال کے سیکنڈ ڈویژن کلب شاتوغو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں کہ شاتوغو کلب خریدنے کیلئے کافی عرصے سے بات چیت جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ انگلینڈ اور بیلجیم میں انویسمنٹ کرنے پر خوش تھا لیکن فرانس سے میرا جذباتی تعلق ہے کیونکہ یہاں میرے بچپن کی یادیں موجود ہیں۔سعودی شہزادے کا کہنا ہے کہ مجھے پیسے اور کھیلوں سے محبت ہے۔خیال رہے کہ ایک اندازے کے مطابق سعودی شہزادے عبداللہ بن مساعد کی دولت کا تخمینہ 20 کروڑ یوروزلگایا گیا ہے۔اُدھر ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانسیسی کلب کی فروخت کا تخمینہ 28 لاکھ یوروز لگایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…