’’ رخصتی کے وقت دلہن کے زیادہ رونے کی وجہ سے موت کے پیچھے وجہ کیا نکل آئی‘‘ افسوسناک انکشاف

  پیر‬‮ 8 مارچ‬‮ 2021  |  15:08

نئی دہلی(آن لائن /مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت کی ریاست اوڈیشا میں رخصتی کے وقت دلہن کی اچانک موت سے شادی کی خوشیاں، سوگ میں بدل گئیں۔ بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں رخصتی کے وقت دلہن بے ساختہ روئی اور اس دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کی موت واقع ہوگئی۔مذکورہ واقعہ بھارت کی ریاست اوڈیشا کے ضلع سون پور میں پیش آیا اور دلہن کیشناخت گپتسواری ساہو عرف روزی کے نام سے ہوئی۔جلندا گاؤں سے تعلق رکھنے والی روزی ساہو ضلع بالاگیر میں تیتل گاؤں کے بسیکیسان نامی شخص سے ہوئی تھی۔ شادی کی رسومات کے


بعد جب روزی ساہو کے گھر والے انہیں سسرال کے لیے رخصت کررہے تھے تو دلہن روتے ہوئے بے ہوش کر گرپڑی۔دلہن کے اہلخانہ اور رشتے داروں نے منہ پر پانی چھڑک کر اور مختلف تدبیروں سے انہیں ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن وہ بے سدھ رہیں۔جب اہلخانہ کی جانب سے دلہن کو ہوش میں لانے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ڈاکٹر نے انہیں مردہ قرار دیا گیا۔بعدازاں پوسٹ مارٹم کے بعد دلہن کی لاش کو اہلخانہ کے حوالے کیا گیا تھا۔دوسری جانب ڈی این اے انڈیا کی رپورٹ کے اہلخانہ نے بتایا کہ روزی بالکل ٹھیک اور صحتمند تھیں۔ہسپتال لے جانے کے بعد ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ دلہن کی موت 'بہت زیادہ رونے' کے نتیجے میں دل کا دورہ (کارڈیک اریسٹ) پڑنے سے ہوئی۔ڈاکٹرز نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد حتمی رپورٹس جاری کی جائیں گی۔علاوہ ازیں جلندا گاؤں کے ایک رہائشی نے میڈیا کو بتایا کہ دلہن بہت زیادہ دکھ اور غم میں مبتلا تھیں کیونکہ انہوں نے چند ماہ پہلے اپنے والد کو کھودیا تھا۔رہائشی کے مطابق ان کی شادی کا انتظام روزی کے ماموں اور کچھ سوشل ورکرز کی جانب سے کیا گیا تھا۔اہلخانہ کا کہنا تھا کہ دلہن روزی کے والد کا چند ماہ قبل ہی انتقال ہوا تھا اور وہ اپنے والد کی موت کی وجہ سے صدمے میں تھی۔ شادی کے تمام انتظامات دلہن کے ماموں نے کیے تھے۔پولیس کا کہنا تھا کہ دلہن کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے اور رپورٹ آنے کے بعد ہی معاملے کے تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔


زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎