جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

روسی سفارتکار شمالی کوریا سے کیسے فرار ہوئے؟ ویڈیو سامنے آگئی

datetime 27  فروری‬‮  2021 |

پیانگ یانگ (این این آئی)شمالی کوریا میں کورونا کی وجہ سے عائد سخت پابندیوں سے تنگ ہوکر روسی سفارتکار کٹھن راستہ اختیار کرکے ملک سے فرار ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں قائم روسی سفارت خانے کے 8 ملازمین اور ان کے اہلخانہ دشوار گزار راستوں کا سفر کرکے شمالی

کوریا سے باہر نکلے۔سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ نے شمالی کوریا سے نکلنے کے لیے 34 گھنٹے سفر کیا۔شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ملک کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے انتہائی سخت لاک ڈائون نافذ کررکھا ہے جس کی وجہ سے شمالی کوریا کی سرحدیں مکمل طور پربند ہیں اور ان ہی حالات کی وجہ سے پیانگ یانگ میں واقع سفارتکار مشکلات کا شکار ہیں جب کہ شمالی کوریا کی سرکاری ائیرلائن نے بھی اپنی پروازیں معطل کر رکھی ہیں۔روسی سفارتخانے نے اپنے فیس بک پیج پر جاری بیان میں کہا ہیکہ ان حالات میں دشوار گزار کانوں کے ذریعے سفر سے ہی شمالی کوریا سے باہر نکلنا ایک واحد راستہ تھا۔سفارتکاروں نے اپنے اہلخانہ کے ساتھ سفر کا آغاز ٹرین کے ذریعے کیا اور شمالی کوریا کے بوسیدہ ریلوے نظام کے ذریعے 32 گھنٹے سفر کیا جس کے بعد انہوں نے بارڈر کی طرف جانے کے لیے 2 گھنٹے بس چلائی جہاں سے انہوں نے ایک ٹرین ٹرالی لی اور اہلخانہ کو سامان سمیت اس میں منتقل کیا۔شمالی کوریا کے سفارتخانے کی جانب سے سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ کی ٹرالی پر سوار تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔سفارتکاروں نے روس کو شمالی کوریا سے الگ کرنے والے پل پر تقریبا 0.6 میل تک اس ہاتھ ٹرالی کو گھسیٹا جس کے بعدوہ روسی اسٹیشن پر جا پہنچے اور اپنے ساتھیوں سے ملے جنہوں نے انہیں ائیرپورٹ تک پہنچانے میں ان کی مدد کی۔واضح رہے کہ شمالی کوریا میں اب تک باضابطہ طور پر کورونا وائرس کو ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…