جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں غاروں کے پر اسرار رازوں سے پردہ اٹھانے کا منصوبہ

datetime 25  فروری‬‮  2021 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے ارضیاتی سروے کمیشن کے پراسرار غاروں اور گھاٹیوں کا سروے کرنے کے ذمہ دار شعبے کے سربراہ محمود الشنطی نے زیرزمین غاروں کے تاریخی حقائق کا کھوج لگانے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور کہاہے کہ اس منصوبے کا مقصد مملکت میں موجود غاروں کا تعین کرنے اور انہیں سیاحوں اور

زائرین کے لیے تیار کرنا ہے۔عرب ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے جیولوجیکل سروے کے غاروں کے مطالعے کے ذمہ دار شعبے کے سربراہ محمود الشنطی نے بتایاکہ شعبے کا غاروں کے بارے میں تاریخی اور دلچسپ حقائق سامنے لانیاور اس کے مستقبل کے اہداف کا تعین مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کا حصہ ہے۔ غاروں کے مطالعے کے ذمہ دار شعبے کی طرف سے غاروں کے علمی اور سیاحتی استفادے کی خاطر مانیٹرنگ کا میکانزم اپنایا گیا ہے۔غاروں کے بارے میں جان کاری حاصل کرنے اور انہیں سیاحتی مقاصد کے لیے کھولنے سے اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ نئی صنعتوں کے قیام کے موقعے سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ غاروں اور گھاٹیوں کے بارے میں معلوامات سے مملکت میں ارضیاتی قدرتی وسائل کی تلاش میں مدد ملے گی اور ان کے سائنسی اور سیاحتی اہمیت کے پہلو مزید نمایاں ہوں گے۔ سعودی عرب کے ارضیاتی سروے کمیشن کے پراسرار غاروں اور گھاٹیوں کا سروے کرنے کے ذمہ دار شعبے کے سربراہ محمود الشنطی نے زیرزمین غاروں کے تاریخی حقائق کا کھوج لگانے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور کہاہے کہ اس منصوبے کا مقصد مملکت میں موجود غاروں کا تعین کرنے اور انہیں سیاحوں اور زائرین کے لیے تیار کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…