جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

غیر ملکی انجینئرز کی جعلی ڈگریاں، سعودی عرب نے سزا دینے کا اعلان کر دیا

datetime 12  فروری‬‮  2021 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کی انجیئرنگ کونسل نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2020 کے دوران غیر مجاز جامعات کی طرف سے 16 ہزار 887 اسناد جاری کی گئیں۔ یہ اسناد مملکت کے مختلف شہروں میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو جاری گئیں۔انجینیرز کونسل کے ترجمان انجینیرعبدالناصر العبداللطیف نے عرب ٹی وی سے

بات کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کی شرائط پر پورا نہ اترنے والی تمام اسناد اور شرائط کے مطابق پانچ سالہ تجربہ نہ رکھنے والے انجینیرز کی ڈگریاں مسترد کردی گئیں۔ اسی طرح غیر مجاز پیشہ وارانہ تدریس کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کی طرف سے مختلف دورانیے کے کورسز کے دوران جاری کردہ ڈپلومے بھی مسترد کر دیئے گئے۔عبداللطیف نے مزید کہا کہ سال 2020 کے دوران انجینیرنگ کی 387 جعلی ڈگریاں ضبط کی گئیں۔ یہ ڈگریاں دوسرے ممالک کے ملازمین کی طرف سے فراہم کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2020 کے دوران سعودی عرب میں رجسٹرڈ انجینیرز کی تعداد 13 ہزار 465 تک پہنچ گئی تھی۔انجینیر عبداللطیف نے بتایا کہ شاہی فرمان نمبر 36 مجریہ 1438ھ کے تحت انجینیرنگ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے انجینئرنگ کے پیشوں کو عملی جامہ پہنانے کے نظام اور قانون پر عمل درآمد کی سختی سے تاکید کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والے افراد کو بھاری جرمانوں کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ جرمانوں کی زیادہ سے زیادہ حد ایک ملین ریال تک ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئی تھیں۔ اب جو ڈگریاں جعلی ثابت ہوئی ہیں ابھی تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ یہ کن ممالک کے باشندے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…