جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی ٹیکنالوجی ایوارڈ کی فائنلسٹ میں معروف پاکستانی خاتون سائنسی صحافی بھی شامل

datetime 10  فروری‬‮  2021 |

لندن (این این آئی) برطانیہ میں مسلسل گیارہ برس سے جاری ایف ڈی ایم ‘ایوری وومن ان ٹیکنالوجی ایوارڈ’ کے چھ حتمی ناموں (فائنلسٹ) میں کوئٹہ کی خاتون سائنسی صحافی صادقہ خان بھی شامل ہیں۔توقع ہے کہ جیتنے کی صورت میں خواتین کا مشہور ٹیکنالوجی ایوارڈ پاکستان کے نام ہوسکتا ہے۔ ایف ڈی ایم کمپنی ہر برطانیہ اور اس کے علاہ دنیا بھر سے ایسی خواتین و حضرات کو

ایوارڈ سے نوازتی ہے جنہوں نے معاشرے میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ اور کردار کے لیے اپنا اہم کردار ادا کیا ہوتا۔صادقہ خان نے طبیعیات میں ماسٹرز کے بعد سائنشیا نامی ویب سائٹ کی بنیاد رکھی اور اس کی سی ای او ہیں۔ یہ ویب سائٹ ملک میں عام فہم انداز میں سائنسی ابلاغ اور شعور کا اہم فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ صادقہ خان نے اردو زبان میں ‘دوام’ نامی پہلا ناول بھی لکھا ہے جو ماحولیات اور آب وہوا میں تبدیلی کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔صادقہ خان کئی مشہور سائنسی کتب کی مترجم بھی ہیں اور اسی بنا پر انہیں اردوسائنس بورڈ کے اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ برس وہ سائنسی رپورٹ پر آگہی ایوارڈ بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔ ان کی تحریریں اور سائنس فیچر بی بی سی، ڈوئچے ویلے اردو اور ڈان میں اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ایف ڈی ایم کے تحت چار مارچ کو حتمی مجازی (ورچول) تقریب میں ایوارڈ کا اعلان کیا جائے گا۔ اس ویب سائٹ کا مقصد ایسی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو ٹیکنالوجی اور سائنس کے فروغ میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔واضح رہے کہ ایف ڈی ایم گروپ برطانیہ میں کاروبار، اسٹارٹ اپ اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور معیشت کو فروغ دینے والا ایک اہم ادارہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اور صنعتی ماہرین کو تربیت، تعلیم اور ملازمت کیمواقع بھی فراہم کرتا ہے اور ہرسال اس شعبے میں 2000 نئی ملازم اور ملازمتوں کو فروغ دے رہا ہے۔اس کا اہم مقصد سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صنفی خلیج کو کم کرنا اور خواتین کے لیے بہتر مواقع بھی فراہم کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…