جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چین کا بھارتی سرحد کے قریب دنیا کا سب بڑا ڈیم بنانے کا منصوبہ 

datetime 8  فروری‬‮  2021 |

بیجنگ (این این آئی) چین نے ہمالیہ کے دامن میں بھارتی سرحد سے محض 30 کلو میٹر دور دنیا کا سب سے بڑا پن بجلی ڈیم بنانے کا منصوبہ تیار کرلیاہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس نومبر میں چین کے سرکاری میڈیا نے تبت خودمختار خطے (ٹی اے آر) میں یارلنگ سانگپو دریا پر 60 گیگاواٹ میگا ڈیم تعمیر کرنے کا

منصوبہ شیئر کیا تھا۔2060 تک کاربن فری کے مقصد کیلئے بیجنگ نے تبت میں پن بجلی منصوبوں پر اپنی کوششیں دگنا کردی ہیں۔دوسری جانب انسانی حقوق کے گروپ اور ماحولیاتی ماہرین نے پن بجلی کے منصوبوں پر تنقید کی ہے۔تبت انسٹیٹیوٹ کے شعبہ ماحولیات کے سربراہ ٹیمپا گیلٹسن زملہ نے کہا ہے کہ تبتی باشندوں نے اپنی زمین پر جو کچھ قدرتی ماحول دیکھا اور سنا تھا وہ سب کچھ کھو دیا ہے۔خیال رہے کہ چین کی کمونسٹ پارٹی سی سی پی نے 1950 میں تبت کو الحاق کیا تھا۔ٹیمپا گیلٹسن نے کہا کہ چینی قبضے سے پہلے ہمارے پاس کوئی ڈیم نہیں تھے اس لیے نہیں کہ ہم اس کو نقصان پہنچانے کے قابل نہیں تھے بلکہ اس وجہ سے کہ ہمیں دریاؤں کا بے حد احترام ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں ایک انتہائی سخت روایت ہے کہ کوئی بھی بعض نہروں کے قریب نہیں جائے گا اور نہ ہی کوئی ایسا کام کرے گا جس سے دریا سے نکلنے والی نہر یا دوسری نہر کو نقصان پہنچے، یہاں تک کہ آپ کو قوانین کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر تبتی اس کی پاسداری کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اپنی ترقی کیلئے کچھ بھی کرے گا اور یہ بہت مایوس کن بات ہے کیونکہ اس ضمن میں تبت کے باشندوں سے مشورہ نہیں کیا گیا۔اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجوزہ میگا ڈیم سائٹ بھارتی سرحد سے صرف 30 کلومیٹر

کی دوری پر ہے اور سی سی پی یقینی طور پر اس کو ایک سیاسی آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب آبی وسائل کو سنبھالنے کے انچارج بھارت کی وزارت کے ترجمان نے کہا کہ وہ برہما پیترا میں 10 گیگا واٹ منصوبے کے تعمیر کے ساتھ جواب دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…