جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

میانمار میں بغاوت کے بعد آنگ سان سوچی کے خلاف مقدمہ درج لیکن الزام کیا لگا؟جی سیون گروپ بھی بھڑک اٹھا

datetime 4  فروری‬‮  2021 |

میانمار (این این آئی)میانمار میں فوج کے ٹیلی وژن چینل کے مطابق آنگ سان سوچی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔نوبل انعام یافتہ خاتون سیاستدان آنگ سان سوچی کو پیر یکم فروری کو فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ اس وقت اپنے

گھر پر نظر بند ہیں۔ فوج نے سول حکومت کو فارغ کرنے کے بعد صدر اور سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے تقریبا تمام نومنتخب اراکینِ پارلیمنٹ کو حراست میں لے رکھا ہے۔آنگ سان سوچی کے خلاف پولیس نے بدھ تین فروری کو مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی وجہ ان کا ملک کے تجارتی قوانین سے انحراف ہے۔ پولیس نے مقامی عدالت سے انہیں پندرہ فروری تک حراست میں رکھنے کی استدعا کی ہے۔دوسری جانب فوج نے آنگ سان سوچی کی رہائش گاہ کی تلاشی بھی لی ہے۔ اس تلاشی کے دوران ان کے پاس سے مبینہ طور پر بغیر اجازت امپورٹ کیے گئے ‘ریڈیوز’ برآمد کیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق سابق صدر وِن مِنٹ کے خلاف قدرتی آفات کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان پر گزشتہ برس انتخابی مہم کے دوران کووڈ انیس کی وبا کے نافذ شدہ ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ریلی میں شریک ہونے کے الزام لگایا گیا ہے۔

میانمار کی فوج نے حکومت پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ایک سال کے لیے ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا ہے۔ فوج ایک سال بعد پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعادہ کر چکی ہے۔میانمار میں یکم فروری کو نو منتخب پارلیمنٹ نے حلف اٹھانا تھا۔فوج نے اراکینِ پارلیمنٹ کو سرکاری رہائش

گاہیں فوری طور پر خالی کرنے کا بھی حکم دے رکھا ہے۔فوج گزشتہ برس کے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیتی ہے اور اس نے افتتاحی اجلاس کے انعقاد کے بجائے آنگ سان سوچی کی حکومت کو دوبارہ عام انتخابات کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ انتخابات میں خاتون رہنما کی سیاسی جماعت

کو واضح کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ادھر صنعتی طور پر ترقی یافتہ اور امیر ممالک کے گروپ جی سیون کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں میانمار میں فوج کے اقتدار پر قبضے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ان ممالک کو فوجی اقدام پر گہری تشویش ہے۔

سوچی کی گرفتاری سے روہنگیا مہاجر خوش کیوں ہیں؟جی سیون گروپ نے کہا ہے کہ فوج فوری طور پر ایمرجنسی ختم کرے اور جمہوری حکومت کو بحال کرے۔ اس بیان میں میانمار کی فوج سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کا ہر ممکن احترام کرے۔امیر ممالک کے جی سیون گروپ میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، امریکا، جاپان اور برطانیہ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…